Al-Risala · July 1985 · page 40

تیسرا سفر

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۵، صفحہ ۴۰

لاہور میں بہت سے لوگوں نے آٹوگراف لئے۔ ایک آٹوگراف مجھے یاد ہے۔ میں نے اپنی دستخط کے ساتھ انھیں حسب ذیل جملہ لکھ کر دیا:

زندگی اس سے زیادہ قیمتی ہے کہ اس کو مطلوبِ اعلیٰ سے کمتر کسی چیز میں ضائع کیا جائے۔ لاہور کے قرآنی محاضرات کا عنوان تھا: تصورِ فرائضِ دینی مختلف علماء نے اپنے اپنے نقطہ نظر کے مطابق مختلف قسم کے خیالات پیش کئے۔ میں نے ۴۵ منٹ کی تقریر میں یہ دکھانے کی کوشش کی کہ دینی دعوت کا نشانہ فرد ہے نہ کہ اجتماع۔

۲۶ مارچ کو شام کی نشست میں میں نے ایک مقالہ پڑھ کر سنایا جس کا عنوان تھا” دلائل قرآن“ لوگوں نے اس کو بہت پسند کیا۔ اور متعدد لوگوں نے اس کی فوٹو کاپی کراکر اس کی نقل حاصل کی۔ ۲۵ مارچ کی شام کو جناب کرامت اللہ شیخ کی رہائش گاہ پر ایک نشست ہوئی۔ اس میں کچھ پروفیسر اور ڈاکٹر حضرات شریک ہوئے۔ گفتگو کے انداز میں اسلامی موضوعات پر باتیں ہوئیں۔ یہ نشست تقریباً دو گھنٹہ تک جاری رہی۔

۲۶ مارچ کی صبح کو مولانا وصی مظہر ندوی اور الانصار المسلمون کے دوسرے ذمہ دار ملاقات کے لئے تشریف لائے۔ دیر تک ملی موضوعات پر گفتگو ہوئی۔

مختلف ملاقاتوں کے درمیان مجھ کو ایک تجربہ یہ ہوا کہ ہر آدمی اپنے ذہن کو کسی نہ کسی شخصیت سے وابستہ کئے ہوئے ہے۔ وہ ہمیشہ اسی کی نسبت سے سوچتا ہے۔ مثلاً ایک بار میں نے ایک بات کہی۔ ایک صاحب نے فوراً کہا ” ہاں حضرت تھانوی نے بھی یہی بات اس طرح فرمائی تھی“ حالانکہ انھوں نے جو ملفوظ نقل کیا اس کا اس سے کوئی تعلق نہ تھا۔ اسی طرح ایک بار میں نے کوئی بات کہی تو ایک صاحب فوراً بولے ”جی ہاں۔ یہی بات مولانا مودودی نے فلاں موقع پر کہی تھی“ حالانکہ جو بات انھوں نے نقل کی وہ ایک اور ہی بات تھی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ صرف شخصیتوں کو پہچانتے ہیں۔ وہ حقیقتوں کو نہیں جانتے۔ کسی حقیقت کو وہ اس وقت تک سمجھ نہیں پاتے جب تک وہ اس کو اپنی محبوب شخصیت کے ساتھ وابستہ نہ کر لیں۔ ایسے لوگ کبھی حقیقت کو نہیں پاتے۔ ان کے لئے وہ لذت مقدر نہیں جو اس دنیا میں صرف اس شخص کا حصہ ہے جو حقیقت کو براہ راست دریافت کرے ۔

ایک طبقہ وہ بھی ہے جو رسول کے معاملہ میں غلو کرتا ہے۔ وہ رسول کو اتنا بڑھانا چاہتا ہے کہ رسول

‹ Previous page Next page › Contents of July 1985 All issues

Printed page