Al-Risala · July 1985 · page 42

تیسرا سفر

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۵، صفحہ ۴۲

کر کے تفصیل سے بتایا ہے کہ یہ تبرکات کس طرح مختلف ہاتھوں سے ہوتے ہوئے یہاں پہنچے۔ یہ تبرکات اپنئے آخری مرحلہ میں انگریزی حکومت کی طرف سے انجمن اسلام لاہور کو دئے گئے۔ مسجد کے ایک حصہ میں قرآن کا ایک خاص نسخہ نمائش کے لئے رکھا گیا ہے۔ یہ سنہرے تاروں سے لکھا گیا ہے۔ عطا محمد مزارات پر چڑھائی جانے والی چادریں تیار کرتے تھے۔ ان کا مکان آتش بازی کے ایک کارخانہ کے اوپر تھا۔ کارخانہ میں آگ لگنے سے ان کا مکان اور بیوی بچے سب ہلاک ہو گئے۔ اس کے بعد روحانی سکون حاصل کرنے کے لئے عطا محمد کے ذہن میں آیا کہ وہ سنہری تاروں سے قرآن پاک تیار کریں۔ مختلف لوگوں کے تعاون سے انھوں نے دس سال میں یہ قرآن تیار کیا۔ یہ قرآن ۳۲۸ صفحات پر ہے۔ اس کی ۳۰ موٹی موٹی جلدیں ہیں۔ وہ ۱۹۴۷ میں اس مسجد میں رکھا گیا۔ مسجد سے متصل سکھوں کی ایک بڑی عمارت ہے۔ اس کے اندر مہاراجہ رنجیت سنگھ کا مقبرہ اور گورو دو راہے۔ ہم اس کے اندر داخل ہوئے اور درشن سنگھ سے ملے جو یہاں "سیوا دار" کی حیثیت سے مقیم ہیں۔ جب ہم ان کے کمرہ میں داخل ہوئے تو وہ ٹیلیفون پر کسی سے بات کر رہے تھے۔ پاکستان کی سرکاری زبان اردو ہے۔ اردو زبان کی ایک بڑی کمی یہ تھی کہ اس کا ٹائپ نہیں تھا۔ مگر دور جدید میں کمپیوٹر کی ایجاد نے اس کو حل کر دیا۔ برطانیہ کی ایک کمپنی نے کمپیوٹر کے ذریعہ اردو ٹائپ سٹنگ کی مشین ایجاد کی ہے۔ یہ مشین کافی مہنگی ہونے کی وجہ سے ابھی عام نہ ہو سکی۔ پاکستان میں کچھ اخبارات (مثلاً جنگ، نوائے وقت) اسی مشین کے ذریعہ چھپتے ہیں۔

تا ہم اس کے حروف میں وہ خوبصورتی نہیں جو ہاتھ کی کتابت میں ہوتی ہے۔ اس کی وجہ مشین کی خرابی نہیں ہے بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ مذکورہ کمپنی کے ذمہ داروں نے حروف تیار کرنے کا کام آرٹسٹ سے کرایا جب کہ یہ کام انھیں خطا ط سے کرانا چاہئے۔ انگریزی میں یہ کام چونکہ آرٹسٹ ہی انجام دیتے ہیں اس لئے انھوں نے اردو کے لئے بھی آرٹسٹ کا انتخاب کیا۔ معلوم ہوا کہ کمپنی کے لوگ دوبارہ خطا ط کے ذریعہ نے حروف تیار کرانا چاہتے ہیں۔

لاہور میں ایک میواتی بزرگ سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ میواتی قوم کی نصف تعداد پاکستان میں ہے اور نصف تعداد ہندوستان میں۔

ان کو حکومت پاکستان سے شکایت تھی۔ انھوں نے کہا کہ میواتی لوگ جب ۱۹۷۷ میں پاکستان

‹ Previous page Next page › Contents of July 1985 All issues

Printed page