تیسرا سفر
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۵، صفحہ ۶۳
میں داخل ہوئے تو انھوں نے یہاں کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان کی پوری آبادی کو ایک جگہ بسایا جائے مگر یہ مطالبہ منظور نہیں کیا گیا۔ چنانچہ یہ تمام میواتی مختلف علاقوں میں منتشر ہیں۔ میوات کے لوگ صرف اتنا ہی جانتے ہیں۔ وہ یہ سوچنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے کہ حکومت نے ایسا کیوں کیا۔ اصل یہ ہے کہ میواتی قوم نے اپنے آپ کو ایک لڑاکا قوم کی حیثیت سے متعارف کیا ہے ۔ انھوں نے دہلی کے مسلم سلاطین کی ماتحتی قبول نہیں کی۔ اسی طرح انگریزوں کے دور میں بھی وہ برابر بغاوت کرتے رہے۔ ایسی حالت میں حکومت پاکستان کا یہ سوچنا بالکل درست تھا کہ ان کو مجموعہ کی شکل میں بسانا ٹھیک نہیں ہے۔ ورنہ وہ یہاں بھی شورش برپا کرتے رہیں گے۔
یہی وہ صورت حال ہے جس کے بارے میں حضرت مسیح نے فرمایا کہ ــــ انھیں دوسرے کی آنکھ کا تنکا دکھائی دیتا ہے مگر اپنی آنکھ کا شہتیر نظر نہیں آتا۔
حکیم عبد الرحيم اشرف صاحب (فیصل آباد) کا ٹیلی فون آیا کہ وہ ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے فیصل آباد کے سفر سے معذوری ظاہر کی۔ چنانچہ وہ خود لاہور تشریف لائے۔ ان سے موجودہ زمانہ میں احیار اسلام کے موضوع پر گفتگو رہی۔ اس مجلس میں روزنامہ وفاق کے ایڈیٹر جناب مصطفی صادق صاحب اور بعض دوسرے حضرات بھی موجود تھے۔
ہندوستان کے مسلمانوں کے بارہ میں سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ میری رائے اس سے بالکل مختلف ہے جو عام طور پر آپ نے سنا ہوگا ۔ لوگ ہندوستان کے مسلمانوں کے متعلق ہمیشہ ظلم وستم کی داستانیں بیان کرتے ہیں۔ مگر یہ یا تو تحریف (Distortion) ہوتی ہے یا تعمیم (Generalization) یعنی یا تو کسی واقعہ کو بگاڑ کر غلط شکل میں پیش کیا جاتا ہے یا کسی اتفاقی واقعہ کو عمومی حالت کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں میں نے اپنا نقطہ نظر نہایت تفصیل کے ساتھ ایک کتاب میں بیان کیا ہے جس کا نام ہے" حل یہاں ہے"۔
پاکستان کے لئے روانگی سے چند دن پہلے میں نے ایک اخبار میں ایک بیان پڑھا تھا۔ یہ پاکستان کی سابق مجلس شوری کی خاتون رکن بشریٰ رحمان کا بیان تھا۔ اس بیان میں انھوں نے ہندوستانی مسلمانوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا :
ہندوستان کے مسلمان ثقافتی شدھی کے دور سے گزر رہے ہیں۔ ہندوستان میں مسلمانوں کی
‹ Previous page Next page › Contents of July 1985 All issues