Al-Risala · July 1985 · page 24

تیسرا سفر

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۵، صفحہ ۲۴

حالت اتنی زیادہ خراب ہے کہ مسلمانوں کو وہاں با عزت روزگار حاصل کرنے کے لئے ہندو نام رکھنے پڑتے ہیں ۔ ان کو ہندوؤں جیسی وضع قطع اختیار کرنی پڑتی ہے ۔ عجیب بات ہے کہ اس طرح کے جھوٹے بیانات دینے میں بہت سے مذہبی رہنما بھی عام لیڈروں سے پیچھے نہیں ہیں ۔ مثلاً مولانا مودودی نے ایک بار ہندوستان کے مسلمانوں کو اسرائیل کے عربوں کے مشابہ بتایا ۔ میں جب اس کو پڑھتا ہوں تو میری سمجھ میں نہیں آتا کہ میں اس کو کس خانہ میں ڈالوں ۔ کیوں کہ اس قسم کے تبصرہ سے قائل کی سنجیدگی مشتبہ ہو رہی ہے ۔

مولانا ابو الا علیٰ مو دو دی نے ۱۹۵۹ میں عرب دنیا کا سفر کیا تھا۔ ان کے ہمراہ ان کے رفیق خاص محمد عاصم صاحب بھی تھے جنھوں نے واپسی کے بعد " سفر نامہ ارض القرآن " کے نام سے اس سفر کی تفصیلی رو داد شائع کی ۔ یہ رو داد ۱۹۶۲ میں لاہور سے کتابی شکل میں شائع ہوئی۔ مولانا ابو الا علیٰ مو دودی اور محمد عاصم صاحب نومبر ۱۹۵۹ میں سمندری جہاز کے ذریعہ کراچی سے بحرین پہنچے ۔ یہاں کی رو داد کا ایک حصہ کتاب میں ان الفاظ میں درج ہے :

(بحرین میں) مولانا مودودی لوگوں کے سوالات کا اطمینان اور تفصیل سے جواب دیتے رہے ۔ ہندوستان کے مسلمانوں کے متعلق مولانا نے بتایا کہ ان کی حالت ویسی ہی ہے جیسے اسرائیل میں عربوں کی۔ یہ مختصر جواب نہایت مو ثر رہا۔ اس مثال کے بغیر اگر ہندوستان میں مسلمانوں کی حالت کے متعلق کوئی مفصل تقریر بھی کی جاتی تو شاید وہ اتنی مؤثر نہ ہوتی۔ بعض لوگوں نے پاکستان کے موجودہ سیاسی مسائل کے متعلق بھی سوالات کئے لیکن مولانا نے ان کا جواب نہیں دیا اور فرمایا کہ میں پاکستانی سیاسیات کو کراچی کے ساحل پر بطور امانت رکھ آیا ہوں ۔ اور جب واپس جاؤں گا تو اسے وصول کر لوں گا۔ اس لئے آپ لوگ اس کے متعلق مجھ سے سوالات نہ کریں (صفحہ ۲۳)

حیران کن بات یہ ہے کہ مولانا ابو الکاعلیٰ مودودی خود اپنے ملک کے بارہ میں تو جانتے تھے کہ اس کی بابت باہر انھیں خاموش رہنا ہے۔ مگر یہی بات وہ ہندوستان کے نازک تر مسئلہ کے بارہ میں نہیں جانتے تھے ۔ کیسا عجیب تھا ان کا جاننا اور کیسا عجیب تھا ان کا نہ جاننا۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1985 All issues

Printed page