هذا اما قاضي عليه محمد رسول الله
الرسالہ، اگست ۱۹۸۵، صفحہ ۱۰
حضرت ابراہیم نے اپنے بیٹے کو" ذبیح "کر کے جو نسل تیار کی اس کا سب سے زیادہ نمایاں وصف یہ تھا کہ وہ آزاد ذہن کے ساتھ حقیقت کو دیکھ سکتی تھی اور اس کا اعتراف کر سکتی تھی۔ حقیقت واقع کو مان لینے کی صلاحیت اس کے اندر کامل درجہ میں موجود تھی۔ یہاں اس سلسلہ میں تین مختلف مثالیں نقل کی جاتی ہیں۔ ایک شخص وہ جس نے حق کو سنتے ہی اسے مان لیا۔ دوسرا وہ جس نے ابتداً انکار کیا مگر جب بات سمجھ میں آگئی تو اس نے اعتراف میں دیر نہیں کی۔ تیسرا وہ جس نے اگرچہ اپنی سرداری کی خاطر اعتراف نہیں کیا مگر وہ بھی اس صفت عام سے خالی نہ تھا۔
ا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جو لوگ ابتدائی مرحلہ میں ایمان لائے ان میں سے ایک خالد بن سعید بن العاص تھے۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا کہ : اے محمد ، آپ کس چیز کی طرف بلاتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا کہ میں تم کو ایک اللہ کی طرف بلاتا ہوں جس کا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اور یہ کہ تم پتھروں کی عبادت چھوڑ دو جو نہ سنتے اور نہ دیکھتے ہیں اور نہ نفع یا نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ ان کو یہ بھی نہیں معلوم کہ کس نے ان کی عبادت کی اور کس نے ان کی عبادت نہیں کی (ولا یدری من عبده ممن لا يعبدہ)، خالد نے یہ سن کر کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں اور میں گو اہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔
حضرت خالد کے والد جو مشرک تھے جب ان کو معلوم ہوا کہ ان کے بیٹے نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ تو انھوں نے ان کو پکڑا اور انھیں مارنا شروع کیا یہاں تک کہ مارتے مارتے لکڑی ٹوٹ گئی۔ جب حضرت خالد اسلام سے پھرنے کے لئے تیار نہیں ہوئے تو باپ نے کہا کہ میں تمہارا کھانا پینا بند کر دوں گا اور تجھے گھر سے نکال دوں گا۔ حضرت خالد نے جواب دیا ، خدا کی قسم محمد نے جو کہا سچ کہا اور میں ان کا پیرو ہوں (قد صدق واللہ واتبعته) دوسرے لفظوں میں یہ کہ محمد جب ایک حق بات کہہ رہے ہیں تو کیسے ممکن ہے کہ میں اسے نہ مانوں۔
۲۔ دوسری مثال سہیل بن عمرو کی ہے۔ صلح حدیبیہ کے وقت وہ مخالفین اسلام کے نمائندہ تھے۔ طویل گفت و شنید کے بعد جب معاہدہ لکھا جانے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو املا کراتے ہوئے یہ الفاظ کہے:
هذا اما قاضي عليه محمد رسول الله
سہیل بن عمرونے ان الفاظ پر سخت اعتراض کیا۔ انھوں نے کہا کہ خدا کی قسم اگر ہم جانتے کہ آپ خدا کے رسول ہیں تو ہم آپ کو بیت اللہ سے نہ روکتے اور نہ آپ سے لڑائی کرتے (واللہ لو كنا نعلم انك رسول
‹ Previous page Next page › Contents of August 1985 All issues