الله ما صدقناك ولا قاتلناگ
الرسالہ، اگست ۱۹۸۵، صفحہ ۱۱
الله ما صدقناك ولا قاتلناگ
بعد کی تاریخ نے بتایا کہ سہیل بن عمرو ان الفاظ میں پوری طرح صادق تھے۔ وہ واقعہ نہ سمجھنے کی وجہ سے مخالفت کمر رہے تھے۔ چنانچہ بعد کو جب ان کی سمجھ میں آگیا کہ آپ سچے پیغمبر ہیں تو وہ ایمان لائے اور اس کے بعد اپنی پوری زندگی اسلام کی حمایت اور تائید میں وقف کردی۔
۳۔ تیسری مثال ابو جہل کی ہے۔ ابو جہل نے اگر چہ اسلام قبول نہیں کیا۔ مگر اس کے یہاں بھی اس عرب کردار کا ایسا نمونہ ملتا ہے جس کی مثال مشکل سے کہیں دوسری جگہ ملے گی۔
مکی دور کا واقعہ ہے کہ ایک روز ابو جہل کی ملاقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی ۔ اس نے آپ کو بہت برا بھلا کہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ یہ واقعہ کہ کی ایک عورت دیکھ رہی تھی۔ اس نے آپ کے چچا حمزہ بن عبد المطلب سے کہا کہ آج ابو جہل نے آپ کے بھتیجے سے بہت نازیبا انداز میں کلام کیا ہے۔ اس وقت حمزہ کے ہاتھ میں لوہے کی کمان تھی ۔ وہ اس کو لئے ہوئے ابو جہل کے پاس آئے اور کمان سے اس کے سر پر اس طرح مارا کہ اس کا سر بری طرح زخمی ہوگیا ۔ ابو جہل کے قبیلہ (بنو مخزوم) کے کچھ لوگ حمزہ کو مارنے کے لئے دوڑے ۔ ابو جہل نے اپنے آدمیوں کو روک دیا اور کہا کہ حمزہ کو چھوڑ دو کیوں کہ خدا کی قسم میں نے ان کے بھتیجے کو آج بہت برا بھلا کہہ دیا تھا (دعوا ا با عمارة فاني والله قد سببت ابن اخيه سبا قبيحا)
ہر قل کے مشہور واقعہ میں آتا ہے کہ اس نے ابو سفیان سے پوچھا کہ کیا نبوت کے اعلان سے پہلے تم لوگوں نے محمد کو کبھی جھوٹ بولتے ہوئے پایا ہے ۔ ابو سفیان نے کہا کہ نہیں۔ یہ واقعہ نقل کرکے ابن کثیر لکھتے ہیں :
وكان ابوسفيان اذذاك رأس الكفرة ابو سفيان اس وقت کا فروں کے سردار اور مشرکوں وزعيم المشركين ومع هذا اعترف بالحق کے لیے لڑتے تھے ، اس کے باوجود انہوں نے حق (تفسیر ابن كثير، الجزء الثاني، صفحة (۴۱۰) کا اعتراف کیا۔
یہ تھی وہ انسانی نسل جو حضرت ابراہیم نے اپنی اولاد کو ذبح" کرکے بنائی۔ اور پھر اس کے منتخب افراد کے ذریعہ وہ "خیر امت" بنی جس نے دل وجان سے توحید کو قبول کیا اور پھر بے مثال قربانی کے ذریعہ دور شرک کو ختم کر کے دور توحید کو بر پا کیا۔
حضرت ابراہیم سے لے کر حضرت محمد تک یہ ایک ڈھائی ہزار سالہ منصوبہ تھا۔ اس کا مرکز عرب کا وہ علاقہ تھا جس کو حجاز کہا جاتا ہے اور جس میں مکہ واقع ہے۔ حج اسی تاریخ کا علامتی اعادہ ہے۔ حج کے ذریعہ
‹ Previous page Next page › Contents of August 1985 All issues