الله ما صدقناك ولا قاتلناگ
الرسالہ، اگست ۱۹۸۵، صفحہ ۱۲
مسلمان دوبارہ یہ عہد کرتے ہیں کہ وہ اس منصوبہ خداوندی میں اپنے آپ کو شامل کریں گے۔ وہ لبیک اللھم لبیک لاشریک لک لبیک ! اے خدا ! ہم حاضر ہیں، کہتے ہوئے ابراہیم اور اسماعیل کی سرزمین میں جمع ہوتے ہیں جو کچھ ان لوگوں پر حقیقی طور پر گزر رہا تھا اس کو چند دن میں علامتی طور پر دہراتے ہیں۔ اس طرح وہ خدا سے کہتے ہیں کہ اگر ضرورت ہو تو وہ دوبارہ اس تاریخ کو دہرانے کے لئے تیار ہیں جو یہاں اس سے پہلے دہرائی گئی۔
آج زمانہ گھوم کر دوبارہ وہیں پہنچ گیا ہے جہاں وہ حضرت ابراہیم کے زمانہ میں تھا۔ اس وقت سارے عالم پر شرک کا غلبہ تھا، آج سارے عالم پر الحاد کا غلبہ ہے۔ قدیم زمانہ کا انسان اگر مشرکانہ طرز پر سوچتا تھا تو آج کا انسان ملحدانہ طرز پر سوچتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کا مسئلہ بھی وہی ہے جو قدیم زمانہ کا مسئلہ تھا۔ اس فرق کے ساتھ کہ قدیم زمانہ میں مشرکانہ شاکلہ لوگوں کے اوپر چھایا ہوا تھا۔ آج لوگوں کے اوپر الحادی مت کا کلہ چھایا ہوا ہے۔ اس شاکلہ (ذہنی سانچہ) کو توڑنا ہی آج اسلام کا اصل کام ہے۔ آج بھی اسلامی ہم اسی نہج پر طے ہوگی جس نہج پر قدیم زمانہ کی اسلامی ہم طے ہوئی تھی۔
اب دوبارہ کچھ لوگوں کو ذبیح ہونا ہے۔ اب پھر کچھ لوگوں کو اپنی اولاد کو صحرا میں ڈالنا ہے تاکہ دین کی تاریخ دوبارہ زندہ ہو۔ ماضی میں دور شرک کو ختم کرنے کے لئے ایک نسل کی قربانی درکار تھی۔ آج دور الحاد کو ختم کرنے کے لئے دوبارہ ایک نسل کی قربانی درکار ہے۔ یہی حج کا سب سے بڑا سبق ہے۔ اسی کاج آج حج مبہر و رہے۔ جو حج کے بعد یہ عزم لے کر وہاں سے واپس آئے۔
حقیقت یہ ہے کہ حج سے فراغت کے بعد حاجی کا کام ختم نہیں ہو جاتا، حج سے فراغت کے بعد حاجی کا اصل کام شروع ہوتا ہے۔ حج کے سفر سے واپسی ایک نئے اہم ترین سفر کا آغاز ہے۔
حاجی مراسم حج کے دوران بار بار لبیک اللھم لبیک (حاضر ہوں خدایا میں حاضر ہوں) کہتا ہے ۔ یہ کیا ہے ۔ یہ عہد نامے کے الفاظ ہیں۔ رج خدا اور بندے کے درمیان ایک عہد ہے۔ عہد ہمیشہ آغاز ہوتا ہے، وہ اختتام نہیں ہوتا۔ یہی حج کی عبادت کا معاملہ ہے۔ جو شخص مراسم حج کو ادا کرکے واپس آتا ہے وہ گویا خدا سے ایک مقدس عہد کر کے واپس آتا ہے ۔ واپس آنے کے بعد اسے مطمئن ہو کر بیٹھ نہیں جانا ہے بلکہ اپنے حالات اور صلاحیت کے اعتبار سے وہ کام شروع کر دیتا ہے جس کا وہ اپنے رب سے عہد کرکے واپس آیا ہے۔ حج سے لوٹنا مقام عہد سے نکل کر مقام عمل کی طرف لوٹنا ہے ۔ حج کے بعد آدمی کی ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں، حج کے بعد آدمی کی ذمہ داریاں ختم نہیں ہوتیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1985 All issues