Al-Risala · August 1985 · page 13

الله ما صدقناك ولا قاتلناگ

الرسالہ، اگست ۱۹۸۵، صفحہ ۱۳

حج کا عہد نامہ کیا ہے ۔ یہ ایک تاریخ کو دہرانے کا عزم ہے ۔ حج تاریخ ابراہیمی کو دوبارہ ظہور میں لانے کا اشتراک ہے۔ حضرت ابراہیم نے جب دیکھا کہ عراق کے متمدن لوگ توحید اور آخرت کی بات کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں تو انہوں نے اپنے عمل کا ایک نیا نقشہ بنایا انہوں نے اپنے آپ کو اور اپنی اولاد کو سخت ترین قربانی کے مرحلے سے گزار کر ایک نئی زندہ نسل پیدا کی۔ انہوں نے دعوت کے عمل کو ایک عظیم منصوبہ کا عمل بنا دیا۔ انہوں نے وہ سب کچھ کیا جو یہ مقصد ان سے کرنے کا تقاضا کر رہا تھا ۔

اسی طرح آج حاجی کو وہ سب کچھ کرنا ہے جو آج کے حالات کا تقاضا ہو اور اس وقت تک کرتے رہنا ہے جب کہ اس کی موت آئے یا وہ منزل مقصود تک پہو نچ جائے ۔ حضرت ابراہیم کے زمانے میں جس طرح شرک کا عالمی غلبہ تھا۔ اسی طرح آج الحاد کا عالمی غلبہ ہے ۔ اب حج سے لوٹنے والوں کو یہ کرنا ہے کہ وہ دور الحاد کو ختم کرکے دوبارہ دور توحید کو لانے کے لیے ابراہیمی تاریخ کو دہرائیں ۔ وہ ابراہیمی عمل کو از سر نو زندہ کریں ۔ وہ اس مقصد کی راہ میں اپنا وہ سب کچھ لگا دیں جس کو لگانے کا آج کے حالات ان سے تقاضا کرتے ہوں ۔ وہ علامتی قربانی کو حقیقی قربانی بنادیں ۔

حج ایک تاریخ کے اعادہ کا عزم ہے ، ایام حج میں علامتی مناسک کی صورت میں اور ایام حج کے بعد حقیقی زندگی میں منصوبہ بند عمل کی صورت میں ۔

یہ مقالہ ایک تقریر پر مبنی ہے جو اسلامی مرکز دہلی کے ماہانہ اجتماع ۱۳ اکتوبر ۱۹۸۴ میں کی گئی ۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1985 All issues

Printed page