حج کی دعوتی اہمیت
الرسالہ، اگست ۱۹۸۵، صفحہ ۱۴
حج کی دعوتی اہمیت
خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور سے پہلے بیت المقدس پیغمبرانہ ہدایت کا مرکز تھا۔ خاتم النبیین کے بعد بیت اللہ الحرام پیغمبرانہ ہدایت کا مرکز ہے (البقرہ ۱۴۳) حج ایک اعتبار سے دنیا بھر کے پیروان اسلام کا سالانہ دعوتی اجتماع ہے۔ وہ خاص دنوں میں حرم کے گرد جمع ہوتے ہیں تاکہ اس کی مقدس فضاؤں میں خدا سے اپنا تعلق استوار کریں۔ اپنے باہمی اتحاد کو مضبوط کریں اور داعی اعظم حضرت ابراہیم کی دعوتی زندگی کے مختلف مراحل کو علامتی طور پر دہرا کر اس بات کا عزم کریں کہ وہ ہر حال میں خدا کے دین کے داعی بنے رہیں گے۔
حج کی تاریخ
اللہ تعالیٰ نے ابراہیم کو امام ہدایت بنایا (انی جاعلک للناس اماما) یعنی آپ کو اس مستقل کام کے لئے چنا کہ آپ کے ذریعہ نبوت کا علم لوگوں تک برابر پہنچتا رہے۔ ابتدائی دو ہزار سال تک اس خدائی فیصلہ کا ظہور آپ کے صاحبزادہ اسحاق کی شاخ میں ہوا۔ حضرت اسحاق سے لے کر حضرت مسیح تک اس نسل میں کثرت سے انبیاء پیدا ہوئے جنھوں نے فلسطین اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں دعوت حق کا کام مسلسل انجام دیا۔ حضرت مسیح کے بعد یہ دینی امامت آپ کے دوسرے صاحبزادہ اسماعیل کی نسل میں منتقل ہوگئی۔ ان کی اولاد میں آخری نبی پیدا ہوئے۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے خصوصی طور پر غلبہ کی نسبت دی تاکہ آپ کے ذریعہ کتاب الہی کی حفاظت کا یقینی انتظام ہوسکے اور دین کے ملنے کا اندیشہ نہ رہے یہی وہ چیز ہے جس کو قرآن میں اظہار دین (لیظهره علی الدین كله) کہا گیا ہے۔ عام پیغمبروں سے اصلاً صرف تبلیغ دین مطلوب تھی اور پیغمبر آخرالزمان سے تبلیغ دین کے ساتھ اظہار دین بھی۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1985 All issues