حج کی تاریخ
الرسالہ، اگست ۱۹۸۵، صفحہ ۱۵
اس مقصد کے لئے انسانوں کی ایک معاون جماعت درکار تھی جو تمام انسانی اوصاف سے متصف ہو۔ وہ پیغمبر آخر الزماں کا ساتھ دے کر اظہار دین کے منصوبے کو تکمیل تک پہنچائے۔ اسی جماعت کی تیاری کے لئے حضرت ابراہیم نے اپنی بیوی ہاجرہ اور اپنے لڑکے اسماعیل کو قدیم مکہ کے غیر آباد اور خشک علاقے میں لاکر بسا دیا، تاکہ تمدن سے دور فطرت کے سادہ ماحول میں توالد و تناسل کے ذریعہ ایک ایسی قوم پیدا ہو جس کے اندر تمام اعلیٰ انسانی صلاحیتیں محفوظ ہوں۔ جو حیلے آمیز ڈھنگ سے سوچے۔ جس کے قول و فعل میں تضاد نہ ہو۔ جو ایک نظری حق کی خاطر اپنا سب کچھ لٹا سکے۔ جس کے اندر پہاڑوں کی صلابت، صحرا کی وسعت اور آسمان کی بلندی ہو۔ اس طرح جب صحرائی ماحول میں پرورش پا کر ایک خیر امت وجود میں آگئی (آل عمران (۱۱۰) تو عین وقت پر اس کے اندر وہ نبی پیدا کر دئے گئے جس کے لئے حضرت ابراہیم نے تعمیر کعبہ کے وقت دعا کی تھی (البقرہ (۱۲۹)
حضرت ابراہیم کی بیوی سارہ کے بطن سے خدا کو ایک پیغمبر پیدا کرنا تھا۔ یہ پیغمبر حضرت ابراہیم ہی کی زندگی میں پیدا ہو گیا اور اس کا نام اسحاق رکھا گیا۔ دوسری طرف حضرت ابراہیم نے مکہ میں دعا کی کہ میرے لڑکے اسماعیل کی اولاد میں ایک نبی پیدا کرے، تو اس دعا کی تکمیل میں دو ہزار سال سے زیادہ مدت لگ گئی۔ اس فرق کی وجہ کیا تھی۔ اس کی وجہ دونوں کے تاریخی کردار کا فرق تھا۔ پیغمبر آخر الزماں کو اپنا مطلوبہ کردار ادا کرنے کے لئے ایک زندہ قوم درکار تھی ۔ اس طرح کی قوم اسباب کے پردہ میں بننے کے لئے دو ہزار سال سے زیادہ کی مدت لگ گئی۔ چنانچہ جب یہ قوم تیار ہو گئی تو آپ خدائی منصوبہ کے مطابق پیدا کر دئے گئے، تاہم یہ بھی ضروری تھا کہ تیاری کے اس طویل وقفہ کے دوران پیغمبرانہ دعوت کے تسلسل کو باقی رکھا جائے۔ اس لئے دوسرا انتظام یہ کیا گیا کہ حضرت ابراہیم کی نسل کی اسرائیلی شاخ میں انبیاء کی پیدائش کا سلسلہ قائم کر دیا گیا ۔ اور ایک کے بعد ایک پیغمبر آکر لوگوں کو خدا پرستی کا پیغام دیتے رہے ۔ تا آنکہ نبی آخر الزماں کے ظہور کا وقت آجانے کی وجہ سے اس کی ضرورت باقی نہ رہی۔ اس منصوبہ کے مطابق حضرت ابراہیم اپنے وطن عراق سے نکلے۔ ایک طرف آپ نے فلسطین (حبرون) میں اپنی بیوی سارہ کو بسایا جن سے اسحاق پیدا ہوئے۔ دوسری طرف آپ نے عرب (مکہ) میں اپنی دوسری بیوی ہاجرہ اور ان کے لڑکے اسماعیل کو رکھا اور یہاں کعبہ کی تعمیر کی۔ گویا حضرت ابراہیم کے ذریعہ ہدایت عالم کی جو منصوبہ بندی کی گئی اس کے ابتدائی جز کا مرکز فلسطین تھا اور اس کے آخری جز کا مرکز حجاز ۔ حضرت ابراہیم کے بعد اولاً فلسطین ہدایت الہی کا مرکز بنا۔ اسی علاقہ میں اسی زمانہ کے تمام انبیاء پیدا ہوئے ــــــــــــ حضرت اسحاق، حضرت یعقوب، حضرت یوسف، حضرت موسیٰ، حضرت داؤد ،
‹ Previous page Next page › Contents of August 1985 All issues