رسول اللہ کا حج
الرسالہ، اگست ۱۹۸۵، صفحہ ۲۳
رسول اللہ کا حج
حج کی عبادت کا نظام حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل نے قائم فرمایا تھا۔ اس کے بعد اگرچہ اس نظام میں بہت سے بگاڑ پیدا ہوئے ، تاہم اس کا رواج برابر باقی رہا۔ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں پیدا ہوئے تو حج جاہلی رسوم کی آمیزش کے باوجود پوری طرح زندہ تھا۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم نے کتنی بار حج ادا فرمایا۔ تاریخی اعتبار سے اس سوال کے دو حصے ہیں۔ ایک ، ہجرت سے پہلے ۔ دوسرا، ہجرت کے بعد ۔ ثانی الذکر حصہ کے بارے میں ہم کو مکمل معلومات حاصل ہیں۔ مگر جہاں تک اول الذکر حصہ کا معاملہ ہے اس کی بہت قطعی معلومات حاصل نہیں۔
ہجرت کے بعد رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم نے صرف ایک بار حج کا فریضہ ادا کیا جس کو عام طور پر حجۃ الوداع کہا جاتا ہے۔ ہجرت سے پہلے آپ مکہ میں مقیم تھے۔ روایات سے اتنا ثابت ہوتا ہے کہ مکہ کے زمانہ قیام میں بھی آپ نے حج کا فریضہ ادا کیا۔ مگر اس کی قطعی تفصیل نہیں ملتی۔ سنن ترمذی اور ابن ماجہ میں ہے کہ آپ نے ہجرت سے پہلے دو حج ادا کئے۔ صحیح مسلم میں صرف ایک حج کا ذکر موجود ہے۔ بعض محدثین کا قول ہے کہ آپ اہل مکہ کی عادت کے مطابق ہر سال حج ادا کرتے تھے۔ طبقات ابن سعد کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ نبوت کے بعد آپ نے ایک حج کے سوا اور کوئی حج ادا نہیں کیا۔ ایک طرف ہجرت سے قبل حج کے بارہ میں اتنی کم معلومات ہیں اور دوسری طرف حجۃ الوداع کے بارہ میں اتنی تفصیلی روایات ملتی ہیں کہ اس کے متعلق اول سے آخر تک مکمل ڈائری مرتب کی جاسکتی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1985 All issues