رسول اللہ کا حج
الرسالہ، اگست ۱۹۸۵، صفحہ ۲۴
اس فرق کی وجہ کیا ہے ۔ اس کی وجہ زمانہ کا فرق ہے۔ ہجرت سے پہلے آپ کی حیثیت ایک ناقابل ذکر شخصیت کی تی۔ لوگوں کی نظر میں آپ کو کوئی خاص اہمیت نہیں رکتے تھے۔ مگر حجۃ الوداع آپ کی آخری عمر میں اس وقت پیش آیا جب کہ آپ کی حیثیت عرب کے فاتح کی ہو چکی تھی۔ آپ کی زندگی کے دو دوروں کا یہی فرق ہے جس کی بنا پر آپ کے ابتدائی حج کے واقعات کو تاریخ نے باقاعدہ ریکارڈ نہیں کیا۔ اور آپ کے آخری حج کو تاریخ نے اتنی تفصیل کے ساتھ ریکارڈ کیا کہ اس کا کوئی چھوٹے سے چھوٹا جزو بھی غیر مذکورنہیں۔
روایات کے ذخیرہ میں حجۃ الوداع کی جو تفصیلات بکھری ہوئی ہیں ان کو بعض مولفین نے یکجا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس سلسلہ میں چند کتابوں کے نام یہ ہیں : السيرة النبوية امام ابوالفداء اسماعیل بن کثیر زاد المعاد علامہ شمس الدین ابن قیم الجوزیہ شرح المواهب اللدنیہ علامہ محمد بن عبد الباقی الزرقانی حجۃ الوداع و جز ر عمرات النبی صلی اللہ علیہ وسلم ، الشیخ محمد زکریا الکاندھلوی ذیل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حج کا بیان مختصر طور پر نقل کیا جاتا ہے : حجۃ الوداع سنہ ھ میں پیش آیا ۔ اس کے تقریباً دو ماہ بعد مدینہ میں آپ کی وفات ہوگئی۔ آپ کے اس حج کو حجۃ الوداع اس لئے کہا جاتا ہے کہ آپ نے منیٰ میں اور عرفہ کے خطبہ میں اس وقت کے اہلِ ایمان کو وداع کہا تھا۔ آپ نے فرمایا تھا کہ اس سال کے بعد آئندہ اس جگہ تم سے میری ملاقات نہ ہو سکے گی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حج مختلف پہلوؤں سے اہمیت رکھتا تھا۔ اسی لئے اس کو کئی ناموں سے یاد کیا جاتا ہے۔ مثلاً حجۃ الوداع ، حجۃ الاسلام ، حجة البلاغ ، حجۃ الکمال ، حجة التمام۔
مکہ رمضان سند ھ میں فتح ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شدھ اور ۹ھ ھ میں حج کے لئے تشریف نہیں لے گئے۔ البتہ آپ کی ہدایت کے مطابق ۹ھ ھ میں تین مسلمانوں کی ایک جماعت نے مدینہ سے مکہ جا کر حج ادا کیا۔ اس جماعت کے امیر حضرت ابو بکر صدیق تھے۔ اس حج میں عرب کے مشرکین بھی شریک تھے۔ مگر سورہ تو بہ میں نازل شدہ حکم
‹ Previous page Next page › Contents of August 1985 All issues