رسول اللہ کا حج
الرسالہ، اگست ۱۹۸۵، صفحہ ۲۵
کے مطابق ۱۰ھ کے حج میں یہ اعلان کر دیا گیا کہ آئندہ سے کسی مشرک کو حج کرنے کی اجازت نہ ہوگی۔ یہ اعلان حضرت علی نے کیا (بخاری)
اگلے سال ۱۰ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا ارادہ فرمایا۔ اسی کے ساتھ تمام قبائل میں اہتمام کے ساتھ اطلاعات بھیج دی گئیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ آپ کے ساتھ شریک ہوسکیں۔ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کے بعد حج کی عبادت اگرچہ جماری تھی ۔ مگر اس میں بہت سی جاہلی رسمیں شامل ہو گئی تھیں۔ اس لئے ضروری تھا کہ بڑی تعداد میں لوگ آپ کو حج کے اعمال کرتے ہوئے دیکھ لیں اور آئندہ اسی کے مطابق حج ادا کرتے رہیں۔ اس قسم کے اعمال ہمیشہ دیکھ کر ہی سمجھ میں آتے ہیں، لفظوں میں بتانے سے سمجھ میں نہیں آتے۔
حضرت جابر بن عبد اللہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا۔ آپ اپنی سواری پر تھے اور رمی جار کر رہے تھے۔ آپ نے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ لوگو، حج کے طریقے مجھ سے سیکھ لو۔ شاید اس سال کے بعد میں دوبارہ حج نہ کر سکوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفر حج کی خبر اطراف ملک میں پھیلی تو لوگ آنا شروع ہوئے۔ یہاں تک کہ مدینہ میں تقریباً ایک لاکھ آدمیوں کا مجمع اکٹھا ہو گیا۔ آپ ۲۵ ذی قعدہ ۹ھ کو مدینہ سے روانہ ہوئے۔ راستہ میں بھی لوگ اس قافلہ میں شریک ہوتے رہے۔ آپ اس طرح مکہ کی طرف جا رہے تھے کہ آپ کے چاروں طرف آدمیوں کا ہجوم تھا۔ حضرت جابر کہتے ہیں کہ میری نگاہ جہاں تک جاتی تھی مجھے ہر طرف انسان ہی انسان دکھائی دیتے تھے ۔ مکہ پہنچ کر یہ مجمع تقریباً سوا لاکھ ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اس اونٹنی پر سوار تھے جس کا نام قصواء تھا۔ یہ ایک غیر معمولی قسم کی تیز رفتار اونٹنی تھی۔ تاہم اس وقت اس کے اوپر جو کجا وہ بندھا ہوا تھا۔ اس کی قیمت چار درہم سے زیادہ نہ تھی۔ گویا ضرورت کی حد تک اعلیٰ معیار اور جہاں ضرورت کی حد ختم ہو جائے وہاں صرف سادگی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روانگی سے پہلے ظہر کی چار رکعتیں لوگوں کے ساتھ پڑھیں۔ آپ نے ایک تقریر فرمائی جس میں بتایا کہ احرام باندھنے کے فرائض و آداب کیا ہیں۔ اس کے بعد آپ وہ الفاظ کہتے ہوئے روانہ ہوئے جن کو تلبیہ کہا جاتا ہے۔ یعنی لبيك اللهم لبيك لبيك لا شريك لك لبيك ان الحمد و النعمة لك و الملك لا شريك لك
‹ Previous page Next page › Contents of August 1985 All issues