رسول اللہ کا حج
الرسالہ، اگست ۱۹۸۵، صفحہ ۲۶
حاضر ہوں ۔ خدا یا میں حاضر ہوں ۔ حاضر ہوں ۔ تیرا کوئی شریک نہیں ۔ میں حاضر ہوں ۔ تعریف اور نعمت تیرے ہی لئے ہے اور بادشاہی میں تیرا کوئی شریک نہیں )
مدینہ سے پانچ میل کے فاصلہ پر ذوالحلیفہ ہے جو اہل مدینہ کی میقات ہے۔ یہاں پہنچ کر آپ نے رات گزاری ۔ اگلے دن غسل کیا۔ ظہر کی نماز دو رکعت ادا کی اور حج و عمرہ (قران) کا احرام باندھا۔ پھر تلبیہ کہتے ہوئے مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔ راستہ میں کوئی ٹیلہ ملتا تو اس پر چڑھ کر بلند آواز سے اللہ اکبر (اللہ سب سے بڑا ہے) کہتے ، گویا کہ آپ سارے عالم کے سامنے خدا کی بڑائی کا اعلان کر رہے ہوں۔
آپ ۴ ذی الحجہ کو مکہ پہنچے ۔ مدینہ سے مکہ کا سفر نو دن میں طے ہوا ۔ یہ پہر کا وقت تھا۔ آپ چلتے ہوئے حرم میں داخل ہوئے ۔ بیت اللہ پر نظر پڑی تو آپ کی زبان مبارک سے نکلا : اللهم زد بيتك هذا تشريفا وتعظيما وتكريما ومهابة (اے اللہ تو اپنے اس گھر کے شرف اور عظمت اور بزرگی اور ہیبت میں اضافہ فرما) آپ اپنے ہاتھ کو اٹھا کر تکبیر کہتے اور فرماتے : اللهم انت السلام ومنك السلام حينا ربنا بالسلام (اے اللہ تو سلامتی ہے ۔ تجھی سے سلامتی ہے ۔ اے ہمارے رب ہم کو سلامتی کے ساتھ زندہ رکھ )
حرم میں داخل ہو کر آپ نے تحیۃ المسجد کا دوگانہ نہیں پڑھا بلکہ طواف قدوم شروع کر دیا۔ آپ حجر اسود کے پاس آئے اور بسم اللہ اللہ اکبر کہہ کر اس کا استلام کیا۔ پھر دائیں طرف سے چل کر سات بار اس کا طواف اس طرح کیا کہ کعبہ آپ کے بائیں طرف تھا۔ طواف کے پہلے تین شوط (پھیرے) میں آپ تیز تیز چلے جس کو رمل کہا جاتا ہے ۔ باقی چار پھیروں میں آپ معمول کی چال چلے۔ آپ کے بائیں شانہ پر احرام کی چادر پڑی ہوئی تھی اور دایاں شانہ کھلا ہوا تھا۔ اس طریقہ کو اضطِباع کہا جاتا ہے ۔ طواف کے دوران جب آپ حجر اسود کے سامنے سے گزرتے تو اس کی طرف اشارہ کرکے اپنی چھڑی سے استلام کرتے۔
حجر اسود اور رکن یمانی کے درمیان یہ دعا ماثور ہے: ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار (اے ہمارے رب ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی دے اور ہم کو آگ کے عذاب سے بچا) اسی طرح طواف میں ۔ آپ سے بعض اور د عائیں بھی منقول ہیں۔
طواف کعبہ سے فراغت کے بعد آپ مقام ابراہیم کے پاس آئے اور قرآن کی یہ آیت
‹ Previous page Next page › Contents of August 1985 All issues