Al-Risala · August 1985 · page 27

رسول اللہ کا حج

الرسالہ، اگست ۱۹۸۵، صفحہ ۲۷

پڑھی : واتخذوا من مقام ابراهيم مصلی (البقرۃ (۱۲۵) مقام ابراہیم کے پاس کھڑے ہو کر آپ نے دو رکعت نماز ادا کی ۔ اس کے بعد حجر اسود کے پاس گئے اور اس کا بوسہ لیا۔ پھر صفا کی طرف روانہ ہوئے ۔ قریب آئے تو فرمایا : ان الصفا والمروة من شعائر اللہ۔ ابدأ بما بدأ اللہ به (بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں ۔ میں اس سے شروع کرتا ہوں جس کا اللہ نے پہلے ذکر کیا ہے)

پھر آپ صفا پر چڑھے یہاں تک کہ کعبہ دکھائی دینے لگا۔ آپ نے قبلہ کی طرف متوجہ ہو کر یہ الفاظ کہے : لا الہ الا اللہ وحدہ لا شريك لہ۔ لہ الملك ولہ الحمد وهو علی کل شئ قدیر ۔ لا الہ الا اللہ وحدہ انجز وعدہ ونصر عبدہ وهزم الاحزاب وحدہ (اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں ۔ وہ اکیلا ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی کی بادشاہی ہے اور اسی کے لئے ساری تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں۔ وہ اکیلا ہے۔ اس نے اپنا وعدہ پورا کر دیا۔ اس نے اپنے بندے کی مدد فرمائی اور تمام گروہوں کو تنہا شکست دی۔

پھر آپ صفا سے اتر کر مروہ کی طرف روانہ ہوئے ۔ دونوں پہاڑیوں کے درمیان آپ نے اس طرح سعی فرمائی کہ جب آپ نشیب میں (میلین اخضرین کے درمیان) پہنچے تو دوڑنے لگے۔ نشیب ختم ہوا تو آہستہ چلنے لگے۔ مروہ پہنچ کر آپ اس کے اوپر اتنا چڑھے کہ کعبہ دکھائی دینے لگا۔ یہاں بھی آپ نے تکبیر و تہلیل کی اور دعا مانگی ۔ اسی طرح آپ نے صفا و مروہ کے درمیان سات پھیرے کئے ۔ بعض روایات کے مطابق آپ نے ابتدائی چند پھیرے پیروں پر کئے اور بقیہ پھیرے اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر ۔ آپ نے ایسا غالبًا اس لئے کیا کہ دور تک پھیلا ہوا مجمع آپ کے عمل کو بخوبی طور پر دیکھ سکے ۔ آپ کا ساتواں پھیرا مروہ پر ختم ہوا ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذی الحجہ کو مکہ میں مقام ابطح میں اترے تھے۔ یہاں آپ ۸ ذی الحجہ تک (چار دن) رہے ۔ اور وہیں اپنے ہمراہیوں کے ساتھ قصر کر کے نماز پڑھتے رہے۔ ۸ ذی الحجہ کو آپ اپنے تمام اصحاب کے ساتھ منیٰ گئے ۔ جاتے وقت کوئی طواف نہیں کیا۔ اس دن ظہر اور عصر اور مغرب اور عشا کی نمازیں آپ نے منیٰ میں پڑھیں اور رات کو یہیں قیام کیا۔ صبح ۹ ذی الحجہ کو سورج نکلنے کے بعد آپ عرفات کی طرف روانہ ہوئے ۔ آپ نمرہ

‹ Previous page Next page › Contents of August 1985 All issues

Printed page