رسول اللہ کا حج
الرسالہ، اگست ۱۹۸۵، صفحہ ۲۸
(وادی عرنہ) کے ایک خیمہ میں اترے۔ صحابہ میں سے کوئی لبیک پکارتا تھا اور کوئی تکبیر کہتا تھا۔ کوئی ایک دوسرے پر اعتراض نہیں کرتا تھا۔
جب زوال کا وقت آیا تو آپ اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر چلے اور میدان عرفہ کے بیچ میں میں ٹھہرے۔ یہاں موجودہ مسجد نمرہ کی جگہ اپنی سواری پر بیٹھے ہوئے آپ نے وہ خطبہ دیا جو خطبہ حجۃ الوداع کے نام سے مشہور ہے۔ یہ خطبہ اور دوسرا خطبہ جو آپ نے منیٰ میں دیا، وہ متفرق طور پر حدیث کی کتابوں میں مذکور ہیں۔ ان کا مجموعہ اگلے صفحات میں نقل کیا جارہاہے۔
یہ جمعہ (9 ذی الحجہ) کا دن تھا۔ جب آپ خطبہ دے چکے تو آپ نے حضرت بلال کو اذان کا حکم دیا۔ انھوں نے اذان دی۔ آپ نے ایک اذان اور دو اقامت سے ظہر اور عصر کی نماز جمع کر کے دو دو رکعت پڑھی۔ یہ جمعہ کی نماز نہیں بلکہ ظہر کی قصر نماز تھی۔ کیوں کہ آپ نے اس میں قرآت بالجہر نہیں کی۔ فرض کے علاوہ اس موقع پر کوئی سنت یا نفل آپ نے نہیں پڑھی۔ نماز سے فارغ ہو کر آپ عرفات کے اس مقام پر آئے جس کو وقوف کی جگہ کہا جاتا ہے۔ یہاں آپ نے اپنے اونٹ پر بیٹھے بیٹھے سورج ڈوبنے تک دعا کی ۔ آپ نے فرمایا کہ اس دن کی دعا بہترین دعا ہے ۔ اس وقت آپ کس قسم کے ربانی احساسات سے بھرے ہوئے تھے، اس کا اندازہ ان کلمات سے ہوتا ہے جو اس وقت آپ کی زبان سے نکل رہے تھے۔ ایک روایت کے مطابق آپ نے فرمایا :
اللهم إنك تسمع كلامی، وتری مکانی ، وتعلم سرى وعلانيتي ، لا يخفى عليك شئ من امرى ، انا البائس الفقير، المستغيث المستجير ، الوجل المشفق المقر المعترف بذنوبی ، اسألت مسئلة المسكين وابتهل اليك ابتهال المذنب الذليل ، وادعوك دعاء الخائف الضرير ، من خضعت لك رقبته وفاضت لك عيناه وذل جسده ورغم أنفه لك اللهم ! لا تجعلني بدعائك رب شقيا وكن لى رؤفارحيما، يا خير المسئولين ويا خير المعطين !
اے اللہ تو میری بات سن رہا ہے اور تو میری جگہ کو دیکھ رہا ہے ۔ تو میرے چھپے اور کھلے کو جانتا ہے۔ میری کوئی بات تجھ سے چھپی ہوئی نہیں ۔ میں مصیبت زدہ ہوں، محتاج ہوں، تجھ سے فریادی ہوں۔ تیری پناہ چاہتا ہوں ۔ پریشان ہوں ۔ خوف زدہ ہوں۔ اپنے گھنا ہوں
‹ Previous page Next page › Contents of August 1985 All issues