Al-Risala · August 1985 · page 30

رسول اللہ کا حج

الرسالہ، اگست ۱۹۸۵، صفحہ ۳۰

جب آپ وادی محسر میں پہنچے تو لوگوں سے کہا کہ یہاں سے تیزی سے گزر جاؤ۔ اپنی اونٹنی بھی آپ نے تیز کر دی۔ وادی محسر وہ جگہ ہے جہاں اصحاب فیل پر خدا کا عذاب نازل ہوا تھا۔ آپ چلتے رہے، یہاں تک کہ آپ منی پہنچ گئے۔ پھر آپ جمرۃ العقبہ آئے۔ یہاں آپ اس طرح کھڑے ہوئے کہ کعبہ آپ کے بائیں طرف تھا اور منی داہنی طرف۔ آپ نے سواری پر بیٹھے ہوئے سورج نکلنے کے بعد ایک کے بعد ایک سات کنکریاں ماریں جس کو رمی کہا جاتا ہے۔ ہر کنکری کے ساتھ آپ تکبیر کہتے جاتے تھے۔ رمی جمار کے بعد آپ نے تلبیہ موقوف کیا۔ اس کے بعد آپ منی واپس ہوئے۔ آپ نے دین کا خلاصہ ان لفظوں میں بیان فرمایا:

اعبدوا ربكم وصلوا خمسكم وصوموا شهركم اپنے رب کی عبادت کرو۔ اور پانچ وقت کی نماز واطيعوا ذا امركم تدخلوا جنة ربكم پڑھو اور رمضان کے مہینہ کا روزہ رکھو اور اپنے صاحب امر کی اطاعت کرو، اور اپنے رب کی جنت میں داخل ہو جاؤ۔

منی میں آپ نے ایک خطبہ دیا۔ یہ اہم خطبہ عرفہ کے خطبہ سے مشابہ تھا۔ یہ تکرار غالباً اس لئے تھی کہ جس نے وہاں نہ سنا ہو وہ یہاں سن لے۔ اور اچھی طرح یاد کر لے۔ یہاں آپ نے جن باتوں کا اعلان فرمایا ان میں سے یہ بھی تھا۔

لا فضل لعربي على عجمي ولا لعجمي على عربی، کسی عربی کو کسی عجمی پر فضیلت نہیں اور کسی عجمی کو کسی ولا لاسود على احمر ولا لاحمر على اسود عربی پر فضیلت نہیں۔ اور کسی کالے کو کسی سرخ الا بالتقوى (مسند احمد، عن ابی نضرة) پر فضیلت نہیں اور کسی سرخ کو کسی کالے پر فضیلت نہیں۔ فضیلت کا مدار صرف تقویٰ پر ہے۔

نیز آپ نے فرمایا:

الا ان الشيطان قدا یس ان یعبد فی سُن لو، شیطان اس سے مایوس ہو گیا ہے بلدكم هذا ابدا ولكن ستكون له کہ اب تمہارے اس شہر میں قیامت تک اس طاعة فيما تحقرون من اعمالكم فيرضی کی پرستش نہ ہوگی۔ مگر تم ایسے کاموں میں اس به (ترمذی)

کی پیروی کرو گے جس کی تمہاری نظر میں اہمیت نہ ہوگی اور وہ اس سے راضی

‹ Previous page Next page › Contents of August 1985 All issues

Printed page