انگریزی الرسالہ
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۵، صفحہ ۳۸
آپ صاحب الرسالہ پر تنقید کیجئے۔ مجھے یقین ہے کہ الرسالہ کے حلقہ کا کوئی شخص اس پر اشتعال نہ ہوگا۔ بلکہ آپ کی تنقید کو صرف اس حیثیت سے جانچے گا کہ وہ دلیل کے اعتبار سے کیسی ہے۔ اس کے برعکس ان شخصیتوں کے حلقہ کا حال یہ ہے کہ وہ اپنی محبوب شخصیت پر تنقید سنتے ہی مشتعل ہو جاتا ہے۔ وہ یہ دیکھنے کی زحمت گوارا نہیں کرتا کہ تنقید بجائے خود کیا ہے۔ وہ دلیل کی بنیاد پر ہے یا بے دلیل ہے۔
اب آپ بتائیے کہ دونوں میں سے کون سا مزاج اسلامی مزاج ہے۔ کوئی بھی شخص جو پڑھا لکھا ہو اور قرآن و حدیث کو جانتا ہو وہ یہی کہے گا کہ الرسالہ کے حلقہ کا مزاج ہی اسلامی مزاج ہے اور ان شخصیتوں کے حلقہ کا مزاج یقینی طور پر غیر اسلامی۔ پھر ان شخصیتوں کو اور ان کے حلقہ کو یہ سوچنا چاہئے کہ انہوں نے اپنی کوششوں سے کون سی فصل تیار کی ہے۔ ایسی حالت میں انہیں خود اپنا احتساب کرنا چاہئے نہ کہ وہ الرسالہ یا صاحب الرسالہ پر برہم ہونے لگیں۔
پھر میں نے کہا کہ اسلام میں حرام چیزوں کی واضح فہرست ہے۔ مگر اس فہرست میں کہیں بھی "تنقید" کا لفظ درج نہیں۔ بلکہ ہم دیکھتے ہیں کہ صحابہ اور تابعین کے زمانہ میں ایک دوسرے پر تنقید کی کھلی اجازت تھی۔ فقہا اور محدثین میں کھلی تنقیدیں ہوتی تھیں۔ امت مسلمہ کا جو معیاری زمانہ ہے اس میں تنقید سے روکنے یا برا ماننے کا کوئی مزاج نہ تھا۔ اب اگر کچھ لوگ تنقید سے روکیں تو گویا وہ بدعت کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ اور بدعت ایک ایسی چیز ہے جس کے بارہ میں ہر جمعہ کو ہمارا امام بلند آواز سے اعلان کرتا ہے ــــــــ كل بدعة ضلالة وكل ضلالة فى النار۔ میں نے کہا کہ آپ صرف یہ پابندی لگا سکتے ہیں کہ تنقید کو دلیل کی بنیاد پر ہونا چاہئے۔ ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ بے دلیل ایک دوسرے کے خلاف رائے زنی کی جانے لگے۔
اس اجتماع میں بمبئی سے بھی کچھ حضرات شریک ہوئے تھے۔ محمد شفیع گلزار سرگروہ نے بتایا کہ جناب عبد الغنی حسن سرگروہ (ایڈوکیٹ بمبئی ) نے انگریزی الرسالہ دیکھ کر اس کو پسند کیا اور کہا کہ : It is the need of the hour (یہ وقت کی ضرورت ہے) اس طرح کی رائے سے لوگوں نے ظاہر کی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ مسلمانوں کے انگریزی داں طبقہ میں اور غیر مسلموں میں خالص تعمیری انداز میں اسلام کو پیش کرنے کے لئے ایک رسالہ کی ضرورت تھی اور انگریزی الرسالہ اس ضرورت کو بخوبی پورا کرتا ہے۔ مولانامختار احمد قاسمی (بمبئی) نے بتایا کہ لمبی (سیبوڑی) میں ایک جماعت (اللہ اکبر) کی سرگرمیوں کو دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ انھوں نے دیکھا کہ انھوں نے الرسالہ کے ایک جملہ کو اپنے یہاں بطور موٹو
‹ Previous page Next page › Contents of January 1985 All issues