حج میں کیا نہ کریں
الرسالہ، اگست ۱۹۸۵، صفحہ ۴۱
مسائل حج اس کے بعد ہا ہا ہا حج اسلام کا پانچواں رکن ہے ۔ ہر مسلمان مرد و عورت پر استطاعت کی صورت میں ایک بار حج کرنا فرض ہے ۔ حج کی ادائیگی کے پانچ دن ہیں ۔ ۸ ذی الحجہ سے ۱۲ ذی الحجہ تک ۔
حج کے لئے جانے والے مکہ پہنچنے سے پہلے ایک مقررہ مقام پر احرام ( حج کا لباس ) پہنتے ہیں ۔ اس مقام کو میقات کہا جاتا ہے ۔ ہندوستان اور پاکستان کے باشندوں کی میقات یلملم کی پہاڑی ہے ۔ مدینہ کی طرف سے آنے والوں کے لئے ذوالحلیفہ، کوفہ، بصرہ اور بغداد کی طرف سے آنے والوں کے لئے ذاتِ عرق ۔ ترکی اور شام کی طرف سے آنے والوں کے لئے جُحفہ ہے ۔ مکہ پہنچنے سے پہلے میقات پر احرام باندھ لینا ضروری ہے ۔
۸ ذی الحجہ کو یوم ترویہ بھی کہتے ہیں۔ اس تاریخ کو رات میں یا صبح کی نماز کے فوراً بعد غسل کر کے احرام کی ایک چادر تہمد کی طرح پہن لیں اور دوسری اوڑھ لیں۔ خوشبو لگائیں۔ حرم میں پہنچ کر کعبہ کا طواف کریں ۔ مقام ابراہیم پر دو رکعت نفل نماز واجب الطواف پڑھیں ۔ دُعا اور استغفار کریں۔ اس کے بعد دو رکعت نماز احرام کی نیت سے ادا کریں۔ جب یہ نماز پڑھیں تو سر احرام کی چادر سے ڈھکا ہوا ہو۔ نماز پوری کر چکیں تو سر سے چادر ہٹالیں اور اس طرح نیت کریں :
اللَّهُمَّ إِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ فَيَسِّرْهُ لِي وَتَقَبَّلْهُ مِنِّي ردا پورہ کو سارا پتا وئی ساریاق پاک فینا اے اللہ میں حج کا ارادہ کرتا ہوں، تو اس کو میرے لئے آسان کر دے اور میری جانب سے اس کو قبول فرما احرام باندھنے سے لے کر حج ختم ہونے تک اٹھتے بیٹھتے اور حج کے ارکان ادا کرتے ہوئے بار بار
‹ Previous page Next page › Contents of August 1985 All issues