Al-Risala · August 1985 · page 42

حج میں کیا نہ کریں

الرسالہ، اگست ۱۹۸۵، صفحہ ۴۲

مندرجہ ذیل دعا پڑھی جاتی ہے جس کو تلبیہ کہتے ہیں۔ مرد بلند آواز سے تلبیہ کہیں اور عورتیں آہستہ آہستہ: لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيْكَ لَكَ لَبَّيْكَ ، اِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيْكَ لَكَ حاضر ہوں، اے اللہ حاضر ہوں، حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، حاضر ہوں، سب تعریفیں اور نعمتیں تیرے لئے ہیں اور بادشاہی میں تیرا کوئی شریک نہیں۔

حج کے دوران ایک مرتبہ صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنا واجب ہے۔ یہ سعی عرفات کی حاضری سے پہلے یا نفلی طواف یا طواف زیارت کے بعد کر سکتے ہیں۔ طواف زیارت (منی سے واپسی کے بعد) کرنا افضل ہے۔ کمزور لوگ، ہجوم کے خیال سے پہلے ہی اس ذمہ داری سے سبک دوش ہو سکتے ہیں۔

طواف کعبہ کے سات چکر ہیں۔ پہلے حجر اسود کا استلام کریں۔ اس کے بعد اضطباع کریں۔ یعنی ابتدائی تین چکر میں چادر کو داہنے مونڈھے کے نیچے سے نکال کر دونوں کونوں کو بائیں مونڈھے پر ڈال لیں اور تیزی سے اکڑ کر چلیں جس کو رمل کہتے ہیں (عورتوں کو اضطباع اور رمل کی ضرورت نہیں) باقی چار پھیرے معمول کے مطابق کریں۔ طواف کے دوران دعا پڑھتے رہیں۔ آخر میں مقام ابراہیم پر دو رکعت نماز پڑھیں ۔ اس کے بعد ملتزم پر آئیں اور خوب دعا کریں۔

اس کے بعد زم زم پئیں اور دعا کریں۔ پھر سعی کے لئے باب الصفا سے ہو کر صفا کی طرف چلیں۔ اور پھر صفا سے مروہ کی طرف۔ اب سعی کا ایک پھیرا پورا ہو گیا۔ اسی طرح سات پھیرے صفا سے مروہ اور مروہ سے صفا تک کریں ۔ اس سعی کے دوران تکبیر و تہلیل اور دعا کرتے رہنا چاہئے۔ سعی میں مردوں کو میلین أخضرین کے درمیان دوڑ کر چلنا چاہئے سعی میں سات پھیرے اس طرح کریں کہ ساتواں پھیرا مروہ پر ختم ہو۔

۸ ذی الحجہ کی صبح کو اس کے بعد منیٰ کے لئے روانہ ہونا ہے۔ دوپہر سے پہلے وہاں پہنچ جائیں تاکہ وہاں ظہر کی نماز ادا کر سکیں۔ منی میں مجموعی طور پر پانچ دن قیام کرنا ہے۔ منی میں پہلے ۸ ذی الحجہ کی ظہر سے ۹ ذی الحجہ کی فجر تک پانچ نمازیں حتی الامکان مسجد خیف میں پڑھی جاتی ہیں۔ ۹ ذی الحجہ کو یہاں سے عرفات جانا ہے اور وہاں ٹھہرنا ہے۔ یہ وقوف عرفہ ہی حج کا رکن اعظم ہے۔ یہاں ظہر اور عصر کی نماز اکٹھا پڑھی جاتی ہے۔ عرفات سے ۹ ذی الحجہ کو واپس آکر رات کو مزدلفہ میں ٹھہرنا ہے۔ پھر ۱۰ ذی الحجہ کو طلوع آفتاب سے پہلے مزدلفہ سے چل کر دوبارہ منیٰ آنا ہے۔ اس تمام دوران میں تلبیہ اور دعائیں جاری رہنا چاہئیں۔ ایک دعا یہ ہے:

لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ، لہ الملک و لہ الحمد يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ على كل شيء قدير

‹ Previous page Next page › Contents of August 1985 All issues

Printed page