Al-Risala · August 1985 · page 44

حج میں کیا نہ کریں

الرسالہ، اگست ۱۹۸۵، صفحہ ۴۴

کہ طوافِ وداع کے بعد مکہ سے مدینہ کے لئے روانہ ہو۔

مدینہ کے سفر میں زبان پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے زیادہ سے زیادہ صلوٰة و سلام جاری رہنا چاہئے۔ مدینہ پہنچ کر غسل کرنے اور مسجد نبوی میں داخل ہو کر دو رکعت نماز پڑھے اور اس کے بعد دعا کرے۔ نماز کے بعد ادب کے ساتھ مواجہہ شریف کی جالیوں کے پاس آئے اور صلوٰة و سلام پڑھے ۔ مدینہ کے قیام کے زمانہ میں نمازیں زیادہ سے زیادہ مسجد نبوی میں ادا کرے۔ مسجد نبوی میں نماز اور درود سے فارغ ہو کر مدینہ کے ان مقامات کی زیارت کرنا چاہئے جن سے اسلام کی تاریخ وابستہ ہے مثلاً جنت البقیع جہاں بہت سے صحابہ کرام دفن ہیں۔ مسجد قبا جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ آکر پہلی نماز پڑھی۔ جبل احد جہاں اسلام اور غیر اسلام کی دوسری بڑی جنگ ہوئی، مسجد قبلتین جہاں عین حالت نماز میں تحویل قبلہ کا حکم نازل ہوا، وغیرہ۔ ممنوعاتِ حج احرام باندھنے کے بعد حاجی پر یہ چیزیں حرام ہو جاتی ہیں ۔ ۱۔ لڑائی جھگڑا کرنا۔

۲۔ جھوٹ بولنا۔

۳۔ غیبت اور برائی کرنا ۴۔ کسی کے اوپر تہمت لگانا ۵۔ گالی دینا، فحش باتیں کرنا، وغیرہ نوٹ: یہ چیزیں ہر حال میں حرام ہیں مگر حج کے دوران ان کی شناعت بہت بڑھ جاتی ہے۔ ۶۔ خشکی کے جانوروں کا شکار کرنا، یا دوسروں کو شکار کی ترغیب دینا۔ ۷۔ بدن کے کسی حصے کا بال منڈانا، ناخن اور مونچھیں وغیرہ کتروانا۔ ۸۔ موزے پہننا، ایسے جوتے پہننا جن سے پاؤں کی درمیانی ہڈی چھپ جائے۔ ۹۔ عمامہ باندھنا یا ٹوپی پہننا۔

۱۰۔ سلے ہوئے کپڑے پہننا۔

۱۱۔ خوشبو لگانا، تیل لگانا یا سونگھنا۔

۱۲۔ بیوی سے ہم صحبت ہونا یا لطف و محبت کی باتیں کرنا۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1985 All issues

Printed page