Al-Risala · January 1985 · page 41

اتحاد کیا ہے، اختلاف کے باوجود متحد ہونا

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۵، صفحہ ۴۱

سے پہلے ارسالہ کا کوئی مضمون پڑھ کر سناتے ہیں۔ پونہ کی ایک مسجد جس کو درگاہ والی مسجد کے نام سے جانا جاتا ہے وہاں ایک شخص ہیں عبد الکریم کورٹ والے وہ ایک فریم میں ارسالہ کا مضمون ہر چار چار دن کو مسجد کے دروازے پر لگاتے ہیں اور لوگ بہت پسند کرتے ہیں۔ اس طرح کی کوششیں مختلف حضرات اپنے اپنے مقامات پر کر رہے ہیں۔

ستمبر ۱۹۸۴ کو جناب ایس ایم کیٹی صاحب (سابق وزیر مالیات کرناٹک) دہلی میں ہمارے مرکز میں آئے اور بھٹکل آنے کی دعوت دی۔ اس پروگرام کے تحت یکم اکتوبر سنہ ۱۹۸۸ء کو پونہ سے بھٹکل کے لئے روانگی ہوئی ۔ تقریبا چھ سو کلومیٹر کا یہ سفر کار کے ذریعہ طے کرنا نہایت درازا وحشت ناک معلوم ہوتا تھا۔ مگر ایک واقعہ نے یہ وحشت ناکی دور کر دی۔ وہ تھا سفر کا راستہ۔ پونہ سے بھٹکل تک کی سڑک پوری کی پوری قدرتی حسن کے درمیان سے گزرتی ہے۔ مسلسل پہاڑی علاقہ اور سڑک کے دونوں طرف پھیلے ہوئے سر سبز مناظر نے سفر کی صعوبت بھلا دی۔ جو سفر ابتداء تکلیف دہ سفر معلوم ہوتا تھا، قدرتی مناظر نے اس کو روح پرور ربانی سفر بنا دیا۔

پونہ سے بھٹکل کے راستہ میں سڑک کے کنارے بہت سے ٹرک الٹے ہوئے نظر آئے۔ کچھ گاڑیاں کیمپٹی سڑک پر دوڑ رہی تھیں اور کچھ گاڑیاں الٹی پڑی تھیں۔ جن لوگوں کی گاڑیاں سڑک پر دوڑ رہی تھیں ان کے چہرے بتاتے تھے کہ وہ اپنے کو محفوظ سمجھتے ہیں۔ ان کو نہیں معلوم کہ یہ صرف وقت کا سوال ہے۔ ہر ایک کی گاڑی آخر کار الٹنے والی ہے۔ کسی کی آج الٹ گئی ہے کسی کی کل الٹے گی۔ یہ الٹی ہوئی گاڑیاں اپنے انجام کی صورت میں دوسروں کو بتا رہی ہیں کہ تمہارا بھی یہی انجام ہونے والا ہے۔ مگر کوئی نہیں جو اپنے دائیں بائیں بکھری ہوئی ان نشانیوں سے سبق لیتا ہو۔ یہ انسان کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔ وہ ہمیشہ اپنے آپ کو واقعات سے الگ کر لیتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ جو کچھ ہوا وہ صرف دوسروں کے لئے تھا، میرے اپنے ساتھ ایسا ہونے والا نہیں۔

راستہ میں دو گھنٹے کے لئے ہم لوگ بلگام ٹھہرے۔ بلگام (کرناٹک) کی کل آبادی پونے تین لاکھ ہے۔ اس میں مسلمان تقریباً ۴۰ ہزار ہیں۔ ۱۹۳۸ء میں یہاں مسٹر محمد علی جناح آئے تھے اور تقریر کی تھی اور اس کے بعد سے یہاں کے ایک چوک کا نام جناح چوک پڑ گیا تھا۔ سرکاری کاغذات میں اس کا یہ نام درج نہیں۔ البتہ مسلمانوں نے یہاں ایک بورڈ لگا دیا جس پر جناح چوک لکھا ہوا تھا اور اس کے اوپر اپنا سترہ جھنڈا لہرا دیا۔ چند سال پہلے ہندو صاحبان نے اس جھنڈے اور بورڈ کو ہٹا دیا۔ اس کے بعد دونوں فرقوں میں تنا فہ پیدا ہو گیا۔ ہندو صاحبان کا مطالبہ تھا کہ اس کا نام ویر ساور کر چوک رکھا ہم

‹ Previous page Next page › Contents of January 1985 All issues

Printed page