Al-Risala · January 1985 · page 42

اتحاد کیا ہے، اختلاف کے باوجود متحد ہونا

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۵، صفحہ ۴۲

جائے ۔ یہ نزاع چل رہی تھی۔ حال ہیں معلوم ہوا کہ یہاں کی کارپوریشن نے " دیر ساور کر چوک " کا نام منظور کر دیا ہے۔

مسلمان نام کی اس تبدیلی کو پسند نہیں کر رہے ہیں۔ تاہم یہاں کے مسلمان اس قدر خستہ حال میں کہ وہ غالباً اس کے خلاف کسی اقدام کی ہمت نہ کرسکیں گے۔ اگر یہاں کے مسلمان اچھے حال میں ہوتے تو یقیناً وہ اس چھیڑ چھاڑ کرتے اور بالآخر فساد ہو جاتا۔ اس کے بعد تمام لٹریچر منفقہ طور پر یہ انکشاف کرتے کہ۔ سازش کے تحت ان مقامات کو فساد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جہاں مسلمان اچھی حالت میں ہیں۔ معلوم ہوا کہ بلگام میں سڑک کے کنارے کی مسجدوں پر پہلے یہ بورڈ لگا ہوا تھا " یہاں باجہ بجانے کی منہائی ہے" کچھ سال پہلے تک شادی بیاہ اور پوجا وغیرہ کے جلوس والے اس پر عمل کرتے تھے۔ مگر اب اس پر عمل ختم ہو گیا ہے۔

ہندوستان کا وہ ساحلی علاقہ جو گجرات سے لے کر ملا بار تک بحر عرب سے ملتا ہے، اس علاقہ میں قدیم زمانہ سے عربوں کی آمد و رفت رہی ہے۔ پہلی صدی ہجری میں صحابہ اور تابعین اس میں داخل ہوتے اور بہت سے لوگ یہاں آباد ہو گئے۔ بھٹکل (کرنا ٹک) اس علاقہ میں واقع ہے۔ یہاں کے مسلمان زیادہ تر انہیں قدیم عربوں کی نسل سے ہیں۔ ابن بطوطہ کے سفر نامہ میں بھی بھٹکل کا ذکر ملتا ہے۔

بھٹکل میں تقریبا ۲۲ ہزار مسلمان آباد ہیں۔ یہ یہاں کی آبادی کا تقریباً ۲۰ فی صد حصہ ہے۔ یہاں 1919 میں انجمن حامی مسلمین قائم ہوئی۔ ابتداء وہ مدرسہ سے شروع ہوئی تھی۔ مگر آج وہ ایک وسیع ایجوکیشنل کا مپلکس میں تبدیل ہو چکی ہے۔

بھٹکل کے مسلمانوں کی ایک جماعت " تنظیم واصلاح " کے نام سے ہے۔ یہاں کے تمام مسلمان اس کے فیصلوں کی پوری پابندی کرتے ہیں۔ مقامی کارپوریشن کے الیکشن میں یہی تنظیم مسلمانوں کا نمائندہ منتخب کرتی ہے۔ صرف یہی مسلمان الیکشن میں حصہ لیتے ہیں دوسرا کوئی شخص الیکشن میں کھڑا نہیں ہو سکتا۔ اور اگر کوئی کھڑا ہو تو اس کو مسلمان کا ایک بھی ووٹ نہیں ملے گا۔ اسی اتحاد کا نتیجہ ہے کہ کارپوریشن پر اکثر مسلمانوں کا قبضہ رہتا ہے۔

بھٹکل میں مسلمانوں نے پرائمری سے لے کر انجینئرنگ تک ہر قسم کی تعلیم کا انتظام کیا ہے۔ اب انہوں نے سترایکڑ کی ایک زمین حاصل کی ہے۔ یہ ایک سطح مرتفع (پلیٹو) ہے ۔ جس کے چاروں طرف پہاڑیاں اور سبز سبز مناظر اس کو اس کو دلکش بنا رہے ہیں۔ اسی زمین میں اسلامک اینڈ عربک اسٹڈیز اکیڈمی قائم کی جارہی ہے۔ اس کی مجوزہ وسیع عمارت اور مسجد کا سنگِ بنیاد رکھنے کے لئے مجھے بلایا گیا تھا۔ ۲ اکتوبر

‹ Previous page Next page › Contents of January 1985 All issues

Printed page