Al-Risala · September 1985 · page 12

مزاج دعوت

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۵، صفحہ ۱۲

مزاج دعوت

فرعون قدیم مصر کا نہایت سرکش اور متکبر بادشاہ تھا۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ نے حضرت موسیٰ کو پیغمبر بننا کر فرعون کے پاس بھیجا۔ اس وقت اللہ نے حضرت موسیٰ اور آپ کے شریک نبوت حضرت ہارون کو جو ہدایت کی وہ یہ تھی :

اذ ہبا الی فرعون انہ طغیٰ ۔ فقولا لہ قولاً تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ۔ وہ حد سے نکل گیا لیناً لعلہ یتذکر او یخشیٰ (طٰہٰ ۴۴) ہے۔ پھر اس سے تم لوگ نرمی کے ساتھ بات کرنا۔ شاید وہ نصیحت قبول کرے یا ڈر جائے۔

یہ فرعون سرکشی کی آخری حد پر پہنچ گیا تھا۔ مزید یہ کہ اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ وہ اصلاح قبول کرنے والا نہیں ہے۔ پھر بھی پیغمبر کو حکم ہوتا ہے کہ اس کے پاس جاؤ تو اس سے نرمی اور شفقت کے ساتھ بات کرنا۔ اس کی گمراہی اور سرکشی کی بنا پر سختی کا انداز مت اختیار کرنا۔ اس آیت کی تشریح میں مفسر ابن کثیر نے لکھا ہے :

هذه الآية فيما عبرة عظيمة وهوان فرعون اس آیت میں بہت بڑا سبق ہے۔ وہ یہ کہ فرعون في غاية العتو والاستكبار وموسی صفوة حد درجہ سرکشی اور گھمنڈ میں مبتلا تھا اور موسیٰ انسانوں الله من خلقه ۔ اقذاك ومع هذا امر ان لا يخاطب میں سے اللہ کے چنے ہوئے تھے۔ پھر بھی اور اس کے باوجود فرعون الا بالملاطفة واللين حکم ہوا کہ فرعون کو مخاطب کریں تو صرف نرمی اور لطافت کے ساتھ مخاطب کریں۔

اس واقعہ سے دعوت کا مزاج معلوم ہوتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دعوتی کلام کو لازمی طور پر نرم کلام ہونا چاہیے۔ مدعو کا ظلم اور سرکشی اپنی آخری حد پر پہنچ جائے، حتیٰ کہ یہ بھی واضح ہو کہ وہ ہدایت قبول کرنے والا نہیں، تب بھی داعی کے لئے جائز نہیں کہ وہ اپنے نرم انداز کو چھوڑ دے۔ داعی کو یک طرفہ طور پر نرمی اور شفقت پر قائم رہنا ہے۔ خواہ مدعو جو اند از بھی اختیار کرے۔

داعی بنا صبر کی زمین پر کھڑا ہونا ہے۔ جو لوگ صبر کی زمین پر کھڑے ہونے کی طاقت نہیں رکھتے انھیں دعوت کا نام بھی نہیں لینا چاہیے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1985 All issues

Printed page