جدید نسل
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۵، صفحہ ۲۰
جدید نسل
ٹائمز آف انڈیا (۲۱ مئی ۱۹۸۵) میں مسٹر جارج منسرین نے اپنا قصہ شائع کیا ہے۔ انہیں ایک کالج کے سمر کیمپ کا افتتاح کرنا تھا۔ مسٹر جی بی کھیر جب بمبئی کے وزیر تعلیم تھے تو ان کے والد اس وقت وزارت تعلیم میں انڈر سکریٹری تھے۔ میٹرک کا رزلٹ آیا تو مضمون نگار کے بھائی ریاضی میں چند نمبروں سے فیل ہوگئے ۔ ایک ماسٹر صاحب از راہ خیر خواہی طالب علم کے والد (انڈر سکریٹری وزارت تعلیم) سے ملے۔ انھوں نے کہا کہ آپ ماڈریٹر (Moderator) کو ایک ٹیلی فون کر دیں اور سب معاملہ درست ہو جائے گا۔ مضمون نگار کا بیان ہے کہ ان کے والد نے اس کے جواب میں کہا کہ میرا لڑکا اگر فیل ہونے کا مستحق ہے تو اس کو فیل ہونے دیجئے ۔ یہ واقعہ اس کو ایک اچھا سبق دے گا ؛
If my son deserves to fail, let him fail. It will teach him a valuable lesson. مضمون نگار کہتے ہیں کہ مذکورہ سمر کیمپ کا افتتاح کرتے ہوئے میں نے یہ واقعہ بیان کیا تو طلبہ نے اس کو اس طرح سنا جیسے وہ بالکل غیر اہم بات ہو۔ حتیٰ کہ ایک نوجوان نے کھڑے ہو کر کہا کہ آپ کے والد کوئی بے وقوف آدمی ہوں گے۔ اگر وہ میرے ساتھ ایسا کرتے تو میں ان کو مار ڈالتا ؛ Your father must have been a fool. I would have killed him if he had done that to me. آجکل کے نوجوانوں میں یہ مزاج عام ہے۔ ہندوستان میں بھی اور اسی طرح پاکستان میں بھی۔ اس مزاج کو پیدا کرنے کی اصل ذمہ داری لیڈروں پر ہے۔ لیڈروں نے اپنی مخالف حکومتوں کا تختہ الٹنے کے لئے نوجوانوں کو بھڑکایا۔ وہ ان کی تخریبی کارروائیوں کو صحیح بتاتے رہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ماضی کی تمام روایات ٹوٹ گئیں۔ آدمی کے سامنے اس کی خواہشات اور مفادات کے سوا کوئی چیز نہیں رہی جس کا وہ لحاظ کرے۔
احترام کی روایات کو توڑنے کا مزاج اگر ایک بار پیدا ہو جائے تو وہ کسی حد پر نہیں رکتا۔ غیروں کو بے عزت کرنے والے بالآخر اپنوں کو بھی بے عزت کرکے رہتے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1985 All issues