Al-Risala · September 1985 · page 21

تفریق کا سبب

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۵، صفحہ ۲۱

تفریق کا سبب

اختلافات ہمیشہ چھوٹے مسائل میں ہوتے میں نہ کہ بڑے بڑے مسائل میں۔ مثلاً ”محمد بن عبد اللہ پیغمبر تھے“ اس میں کوئی اختلاف نہیں۔ یہ عقیدہ تمام مسلمانوں کا مشترکہ عقیدہ ہے۔ مگر آپ پر درود کیسے بھیجا جائے، اس میں جزئی اختلافات پیدا ہوگئے۔ مثلاً سنی حضرات آپ کے نام کے ساتھ صلی اللہ علیہ وسلم کا لفظ لکھتے اور بولتے ہیں۔ اس کے مقابلہ میں شیعہ حضرات کا طریقہ یہ ہے کہ وہ آپ کے نام کے آگے صلی اللہ علیہ وآلہ کا لفظ شامل کرتے ہیں۔

اسی طرح مثلاً تمام مسلمان اس کو مانتے ہیں کہ ایک مسلمان جب دوسرے مسلمان سے ملے تو وہ سلام اور مصافحہ کرے ۔ مگر یہاں یہ اختلاف ہے کہ حنفی لوگ دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کرتے ہیں اور اہل حدیث حضرات ایک ہاتھ سے مصافحہ کرتے ہیں۔

شریعت میں اس طرح کے اختلافات کا پیدا ہو ناغذا ت خود نہ غلط ہے اور نہ مضر بلکہ اس طرح کے اختلافات ایک طبعی امر ہیں اور ہر گروہ میں اور ہر زمانہ میں پیدا ہوتے ہیں۔ مگر اصل غلطی یہ ہے کہ لوگ موشگافیاں کر کے یہ ثابت کرنا شروع کر دیتے ہیں کہ ان کا طریقہ افضل ہے اور دوسرے کا طریقہ غیر افضل ان کا طریقہ رائج ہے اور دوسرے کا طریقہ مرجوح۔ بس یہیں سے خرابی شروع ہو جاتی ہے۔ لوگ غیر ضروری بحثیں کرنے لگتے ہیں اور انہیں چھوٹی چھوٹی باتوں کی بنیاد پر ایک دوسرے سے دور ہو جاتے ہیں۔ اس طرح کے معاملات میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ یہ تسلیم کر لیا جائے کہ ــــــــــ یہ بھی درست ہے اور وہ بھی درست ہے۔ آدمی جس طریقہ کو چاہے اختیار کرے اور اسی کے ساتھ دوسرے کو دوسرے طریقہ پر چلنے دے ۔

اس طرح کے ضمنی امور میں راجح اور مرجوح ، افضل اور غیر افضل کی بحث چھیڑ نا سخت مضر ہے۔ ایسی بحث ہمیشہ اس قیمت پر ہوتی ہے کہ بنیادی چیزوں سے نظریں ہٹ جائیں اور غیر بنیادی چیزیں لوگوں کی توجہات کا مرکز بن جائیں اور نتیجہ ہیں امت مختلف ٹکڑوں میں بٹ کر رہ جائے۔ اساسی اور بنیادی چیزوں میں زور دینے کا لازمی نتیجہ اتحاد ہے اور جزئی اور ضمنی چیزوں میں زور دینے کا لازمی نتیجہ اختلاف۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1985 All issues

Printed page