Al-Risala · September 1985 · page 31

پنڈت موتی لال نہرو، آنند بھون، الٰہ آباد

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۵، صفحہ ۳۱

ہوگئی ہے۔ دوسری طرف ہندی بولنے والی قوم نے یہاں ہر اعتبار سے اہمیت کا درجہ حاصل کر لیا ہے چنانچہ مغرب کے نئے آنے والوں کا رابطہ اب ہندی بولنے والے گروہ سے قائم ہوتا ہے۔ وہ ہندوستان آکر انھیں کی زبان سیکھتے ہیں۔

اردو بولنے والوں نے مواقع سے فائدہ نہیں اٹھایا یہاں تک کہ قانونِ قدرت کے تحت وہ تمام مواقع سے محروم کر دیئے گئے۔

قدیم ہندوستان کا اندازہ کرنے کے لئے یہاں دو حوالے نقل کئے جاتے ہیں۔ مہاتما گاندھی نے اپنے ’’اخبار‘‘ ہری جن‘‘ کی اشاعت ۲۹ اکتوبر ۱۹۳۸ میں لکھا تھا :

’’ ہندو ایسے ہزاروں ہیں جن کی مادری زبان اردو ہے اور جو بجا طور پر اردو کے عالم کہے جاسکتے ہیں۔ انھیں میں سے ایک پنڈت موتی لال نہرو اور دوسرے ڈاکٹر تیج بہادر سپرو ہیں۔‘‘ دوسرا حوالہ سابق وزیر اعظم ہند پنڈت جواہر لال نہرو کے شادی کارڈ کا ہے۔ پنڈت نہرو کی شادی ۱۹۱۶ میں ہوئی تھی۔ اس وقت ان کی شادی کا جو دعوت نامہ چھاپا گیا تھا وہ اردو زبان میں تھا۔ یہ دعوت نامہ آج بھی الٰہ آباد میوزیم کے نہرو سیکشن میں دیکھا جا سکتا ہے۔ اس دعوت نامہ کے الفاظ یہ تھے :

’’تمنا ہے کہ تقریب شادی برخور دار جواہر لال نہرو ساتھ دختر پنڈت جواہر مل کول بمقام دہلی بتاریخ ۷ فروری ۱۹۱۶ تقاریب ما بعد تواريخ ۸۔ ۹ فروری ۱۹۱۶ جناب مع عزیزان شرکت فرما کر مسرت و افتخار بخشیں۔

پنڈت موتی لال نہرو، آنند بھون، الٰہ آباد

‹ Previous page Next page › Contents of September 1985 All issues

Printed page