Al-Risala · September 1985 · page 38

Keep your laws and your morality off my body

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۵، صفحہ ۳۸

عید گاہ ہیں۔ مگر وہ سال بھر خالی پڑی رہتی ہیں۔ سال میں صرف دو بار ان میں عیدین کی نماز ہوتی ہے۔ مجھے عید گاہ کا یہ انداز پسند آیا کہ اس کے کنارے مدرسہ یا اسکول بنا کر اس کو مستقل استعمال کی جنیبہ نہ دیا جائے۔

آسنسول میں یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ مسلمانوں کا نوجوان طبقہ تعمیری کاموں کی طرف متوجہ ہے۔ مسجد میں امام اور موذن کے معیار کو بہتر بنانا، مدرسہ کو ترقی دینا، لائبریری قائم کرنا، قوم کے مختلف حلقوں کو جوڑ نا، نوجوان نسل کو دینی اور تعمیری رخ پر ڈالنے کی کوشش کرنا۔ یہ مناظر یہاں کے قیام کے دوران واضح طور پر نظر آئے۔

مجھے یہاں مدرسہ مصباح العلوم کے سالانہ اجلاس کی صدارت کے لئے بلایا گیا تھا۔ مدرسہ کے سکریٹری جناب سمیع الدین صاحب نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ یہ مدرسہ ۱۹۱۲ میں قائم ہوا۔ اس میں مقامی طلبہ کے علاوہ بیرونی طلبہ تقریبًا ایک سوزیر تعلیم ہیں۔ اس کا طریقہ تعلیم درس نظامیہ کے نصاب پر مبنی ہے۔ فی الحال اس مدرسہ میں عربی و فارسی کی ابتدائی تعلیم سے لے کر مشکوٰۃ تک تعلیم دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ حفظ اور قرات کی تعلیم کا بھی معقول انتظام ہے۔ اس کے تحت بارہ اساتذہ کام کر رہے ہیں۔ مدرسہ میں ایک دار الافتاء بھی ہے۔ مدرسہ کا پرائمری سیکشن حکومت بنگال سے منظور شدہ ہے۔ اس سیکشن میں طلبہ کی تعداد ۲۵۰ ہے۔ شہر کے مختلف محلوں میں مدرسہ کی پانچ شاخیں قائم ہیں جن میں طلبہ کی تعداد مجموعی طور پر ۸۰۰ ہے۔

مدرسہ کے سالانہ اجلاس کے موقع پر جو وسیع ڈائس تیار کیا گیا تھا اس میں ایک پر کشش چیز یہ دکھائی دی کہ ڈائس کے دونوں طرف الرسالہ کے صفحہ اول کے دو مضامین جلی حرفوں میں لکھ کر لگائے گئے تھے۔ یہ دونوں مضامین مقولے حسب ذیل تھے:

بلند مقام ہمیشہ اپنے آپ کو بلند کرنے سے ملتا ہے نہ کہ نعرے اور جھنڈے کو بلند کرنے سے دوسروں سے نہ لڑنے کے لئے اپنے آپ سے لڑنا پڑتا ہے۔

اس قسم کا کام یہاں نوجوانوں کی ایک ٹیم کر رہی ہے جو حال میں ابھری ہے۔ ایک صاحب نے بتایا

‹ Previous page Next page › Contents of September 1985 All issues

Printed page