Keep your laws and your morality off my body
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۵، صفحہ ۴۴
انھوں نے ۲۰ سال پہلے کا اپنا ایک واقعہ بتایا۔ ان کو لوہے کی چادر (Galvanized sheet) کی ضرورت تھی۔ اس کو خریدنے کے لئے وہ کلکتہ گئے۔ وہاں وہ ایک دکاندار کے یہاں پہنچے۔ اس نے چادر دکھائی اور اس کا دام ۵۵ روپیہ فی چادر بتایا یا راب اس قسم کی چادر کا دام ڈیڑھ سو روپے سے زیادہ ہے) کلکتہ کے دوسرے دکاندار اس چادر کا دام ۵۶ روپیہ فی شیٹ بتا رہے تھے۔ محمد مبین صاحب کم قیمت پر خوش نہیں ہوئے۔ بلکہ انھیں شبہ ہوا کہ یہ آخر سستی کیوں ہے۔ انھوں نے دکاندار سے کہا کہ بازار میں اس چادر کا دام ۵۶ روپیہ ہے۔ پھر تم ۵۵ روپیہ کیسے کہہ رہے ہو۔ مجھے صفائی سے بتاؤ کہ اس فرق کار از کیا ہے۔ دکاندار نے پہلے ادھر اُدھر کی باتیں کیں۔ آخر اصرار کے بعد اس نے کہا کہ اصل بات یہ ہے کہ چادر کا اسٹینڈرڈ سائز ۳۶ انچ ہے۔ مگر یہ چادر ۳۵ انچ ہے یعنی ایک انچ کم۔ میں نے محمد مبین صاحب سے کہا کہ عام مزاج کے مطابق آپ کو یہ کرنا چاہئے تھا کہ سسستا پا کر اسے فوراً لے لیتے ۔ پھر آپ نے ایسا کیوں نہیں کیا۔ انھوں نے کہا کہ میرے دل میں آیا کہ ضرور اس کے اندر کوئی کمی ہے۔ ورنہ یہ اس کو ستا کیوں دے رہا ہے۔ مال کا سستا ہونا مجھے مال کے اندر خرابی کی علامت نظر آیا۔ چنانچہ محمد مبین صاحب نے سستی چادر چھوڑ دی ۔ اور دوسرے دکاندار کے یہاں جاکر مہنگی چادر خریدی۔ جب آدمی کسی معاملے میں پوری طرح سنجیدہ ہو تو اس کا طریقہ یہی ہوتا ہے۔
موجودہ زمانہ میں ہمارے لیڈروں کا حال بھی یہی ہے۔ وہ ملت کی تعمیر کے سستے نسخے پیش کر رہے ہیں اور بہت سے لوگ ان سستے نسخوں کی طرف تیزی سے دوڑ رہے ہیں۔ مگر یہ واقعہ صرف یہ بتاتا ہے کہ لیڈر اور ان کے پیرو دونوں میں سے کوئی بھی سنجیدہ نہیں۔ اگر وہ فی الواقع اس معاملے میں سنجیدہ ہوتے تو سستے نسخوں کی اصلیت پر شبہ کرتے نہ یہ کہ ان کو لے کر فوراً دوڑنے لگیں۔
آسنول کی ایک تقریر میں میں نے کہا کہ اس ملک کے مسلمانوں کی پسماندگی کی وجہ یہ ہے کہ ان کے لیڈر انھیں رزرولیشن کا سبق دیتے رہے۔ مگر یہ مقابلہ کی دنیا ہے۔ یہاں اہلیت کا ثبوت دے کر کسی کو جگہ ملتی ہے۔ رزرولیشن کی باتیں کرنا محض ایک قیادت فریب ہے۔ کیوں کہ اس طرح کچھ لوگوں کو سستی قیادت تو مل سکتی ہے۔ مگر اس طرح اصل مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔
ایک صاحب نے فرمایا کہ ہمارے سامنے ایسے واقعات ہیں کہ ایک مسلمان کے پاس اچھے نمبر تھے، اس کے باوجود اسے ملازمت نہیں ملی۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1985 All issues