آسانول میں پروگرام
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۵، صفحہ ۴۶
بلا شبہ خدا نے آپ کے قلم میں وہ روانی عطا کی ہے کہ جس سے ہمارے پاتھکوں کو تو بہت آنند آتا ہے۔ گو یا یہ تحریر کسی خدا شناس کی معلوم پڑتی ہے۔ کچھ وقت پہلے آدرنیہ شاستری کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا اور اپنے مشن کی لائبریری کے لئے الرسالہ کے پرانے پرچے لینے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ براہ کرم قیمت سے مطلع کریں تاکہ کسی کو بھیج کر منگوا ئےجاسکیں۔ ۳۔ مسٹر ایس۔ ایس بھٹناگر (غازی آباد) اپنے خط مورخہ ۲۱ مئی ۱۹۸۵ میں لکھتے ہیں: کل رات کے وقت جیسے ہی میرے لڑکے نے آپ کا الرسالہ اپنے چھوٹے ہاتھوں سے پیش کیا تو میرا دل باغ باغ ہو گیا اور اٹھیں جذبات سے معمور ہو کر دل سے آپ کے لئے دعا نکلی کہ آپ کو خدا تعالی اپنی رحمتوں سے ہمیشہ نوازتے رہیں۔ دور حاضر میں تو آپ ہی واحد بندہ ہیں جو اسلام کو حقیقی معنوں میں عوام کے سامنے خداوند کریم کے فضل سے بخوبی پیش کر رہے ہیں۔ ویسے تو بہت سے اشخاص اس ضمن میں خدمت دین میں مصروف ہیں۔ تا ہم آپ کا انداز بیان منفرد حیثیت کا حامل ہے ۔ بندہ خاکسار آپ کے الرسالہ سے بہت فیض یاب ہوا ہے۔ مزید بر آں لاکھوں اشخاص آپ کی تحریر کردہ مطبوعات سے مستفیض ہوتے ہیں۔ خدا کرے آپ ہماری راہ نمائی اسی طرح ریہاں برس کرتے رہیں۔
۲۸ جون ۱۹۸۵ کو مہینہ کا آخری اتوار تھا۔ حسب معمول مرکز میں ماہانہ درس کا پروگرام ہوا۔ صدر اسلامی مرکز نے قرآن کی آیت فما ارسلنا من رسول الا بلسان قومہ کی روشنی میں درس دیا۔ موصوف نے بتایا کہ موجودہ زمانہ میں لسان قوم (عصری انداز کلام) کیا ہے۔ اور اس عصری انداز کلام میں قرآن کی دعوت کو کس طرح پیش کیا جانا چاہئے ۔ اس درس کا ٹیپ مرکز میں موجود ہے۔
بمبئی کے اجتماع (مئی ۱۹۸۵) کا تذکرہ وہاں کے اخبارات نے اہتمام کے ساتھ کیا۔ اس سلسلہ میں ہفتہ وار بلٹن (یکم جون ۱۹۸۵) نے حسب ذیل الفاظ لکھے: مولانا وحید الدین خاں کو بھلا کون نہیں جانتا۔ الرسالہ جیسے دینی اور علمی پرچے سے انھوں نے سارے ہندوستان میں دھوم مچا رکھی ہے۔ مولانا نے خاص طور نے عصرِ جدید ، سائنس اور اسلام کے تعلق سے معرکہ الآر اءکتا بیں لکھی ہیں۔ یہ بات بالکل پکی ہے کہ اس موضوع پر اس سے بہتر کتابیں آج تک
‹ Previous page Next page › Contents of September 1985 All issues