ادبی انقلاب
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۵، صفحہ ۱۶
ایک دلچسپ نظیرے سے متاثر کیا جائے۔ سائنسی ماڈل کے مقابلے میں یہ بالکل وقتی نوعیت کی چیز ہے ۔ سائنسی ماڈل سائنس داں کے اندازوں کو ظاہر کرنے کے لئے اس وقت تک استعمال کیا جاتا ہے ، جب تک وہ غلط ثابت نہ ہو جائے۔ مزید یہ کہ ادبی تمثیل اپنی ذات میں کوئی ایک چیز نہیں ہے ، دوسرے لفظوں میں یہ کہ وہ حقیقی نہیں سمجھی جاتی۔
تا ہم عظیم ذہنی انقلاب سے پہلے یہ دو قسم کی تمثیلات ایک دوسرے سے بالکل الگ الگ نہیں تھیں۔ یہ سمجھا جاتا تھا کہ اخلاقی نظام ہر اعتبار سے نہایت گہرائی کے ساتھ طبیعی دنیا سے مربوط ہے۔ جب شکسپیر اپنے ایک ڈرامے کے کردار کی زبان سے فوجی نظم و ضبط پر استدلال کرتے ہوئے اس سے کہتا ہے کہ سورج سیاروں کے درمیان کمانڈر کی سی پوزیشن رکھتا ہے تو وہ محض ایک تشبیہ نہیں دیتا بلکہ اپنے یقین کے مطابق وہ کائنات کی فطرت کے بارہ میں ایک صحیح سائنسی بیان دیتا ہے۔ یہ خدائی نظام کا ایک جزو تھا کہ سورج سیاروں کے اوپر حکمران ہو اور اسی طرح Agamemnon یونانیوں کے اوپر حکومت کرے ۔ اور ان دونوں میں سے کسی کی حکمرانی میں بھی فرق آنا وسیع تر کائنات میں خلل پیدا کرنے کا سبب بن سکتا تھا :
The rise of science led to a separation of reason from emotion; سائنس کے عروج نے عقل اور جذبات کو ایک دوسرے سے الگ کر دیا۔ اور فطری طور پر شاعری کے دور کی جگہ نثر کے دور نے لے لی۔
سترھویں صدی کے وسط سے پہلے نثر بھی رنگین اور شاعرانہ طرز کی ہوتی تھی۔ سولیفنٹ (۱۴۵۷ء ۔ ۱۶۶۷) اور ایڈسن (۱۹۱۷-۱۷۲۷) کے وقت سے یہ محض سخن سازی سمجھی جانے لگی۔ ماقبل سائنس کے استعاراتی انداز کی ایک مثال لائیلی (۱۶۰۶-۱۵۷۸) کی کتاب (Euphues) میں ملتی ہے۔ یہ کتاب پہلی بار ۱۵۷۹ میں شائع ہوئی ۔ اس وقت وہ ایک پسندیدہ کتاب تھی اپنے اسٹائل کے اعتبار سے بھی اور اخلاقی مضامین کے اعتبار سے بھی۔ ۱۶۳۶ تک وہ بار بار چھپتی رہی۔ اس کے بعد عام قارئین میں اس نے اپنی جاذبیت کھودی اور محض ایک ادبی عجوبہ (Literary curiosity) بن کر رہ گئی۔
۱۶۵۰ تک ایک شخص انگلش لٹریچر میں عالم خیال اور عالم فطرت کے درمیان کالیت (Wholeness)
‹ Previous page Next page › Contents of October 1985 All issues