ادبی انقلاب
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۵، صفحہ ۱۷
پاتا ہے۔ اس صدی کے وسط سے دونوں کے درمیان خلیج پیدا ہونا شروع ہوئی اور آرٹ اور سائنس کی تقسیم کی شکل میں دونوں الگ الگ ہوگئے ۔ اس کے بعد انگریزی میں ایک سادہ اور استعارہ اور کنایہ سے خالی انداز پیدا ہونے لگا جس کی سب سے بڑی وجہ یورپ میں سائنس کی طرف بڑھتا ہوا رجحان تھا سادگی اظہار (Simplicity of expression) پیدا ہونے کی اور بھی وجہیں تھیں۔ مثلاً سترہویں صدی میں جب تعلیم بڑھی تو یونانی اور لاطینی کلاسیکل کتابوں کے مقابلہ میں لوگ زیادہ تر فلکیات بحریات، جہاز سازی اور گھڑی سازی کے مطالعہ میں دل چسپی لینے لگے۔ اس طرح فطری طور پر سادہ زبان کا رجحان بڑھا کیونکہ یہ مضامین شاعرانہ طرز کے ادب میں بیان نہیں کئے جاسکتے تھے۔ پہلے سو برس میں اخبار کی زبان بھی اس سے اثر پذیر ہوئی ہے۔ تعلیمی انفجار (Literary explosion) کے بعد عوامی صحافت (Popular journalism) پیدا ہوئی اور اسٹائل میں سادگی آتی چلی گئی۔ سترہویں صدی کے بعد پیدا ہونے والے ادب کو ٹھیک ٹھیک حقائق (Precise facts) بیان کرنے تھے۔ اس لئے سادہ انداز بیان کا پیدا ہو نا بالکل فطری تھا۔
سپراٹ (Spart) نے ۱۶۶۷ میں (History of Royal Society) لکھی ۔ اور اس میں نثر کے اسٹائل کے اصول مقرر کئے ۔ اس میں اس نے لکھا کہ ہم کو فطری طرز کلام (Natural way of speaking) اختیار کرنا چاہئے جس میں ریاضیاتی ڈھنگ کی واقعیت ہو اور لفظی رنگینیوں سے خالی ہو۔
۱۶۶۴ میں رائل سوسائٹی نے بالقصد ایک کمیٹی قائم کی جس کا مقصد یہ تھا کہ انگریزی زبان کے اسٹائل میں اصلاح کی کوشش کرے۔
اس وقت کے یورپ میں عوامی لہر پوری طرح شعر ، استعارہ اور شاعرانہ نثر (Poetic prose) کے خلاف تھی۔ فلاسفہ عام طور پر اس طرز بیان کو سچائی (Truth) میں ایک رکاوٹ سمجھتے تھے۔ ہابس (۱۶۷۹ - ۱۵۸۸) کے نزدیک وہ سیدھے فکر (Straight thinking) میں خلل پیدا کرنے والا تھا روسو (۱۷۷۸ - ۱۷۱۲) نے کہا تھا کہ ڈیکارٹ (۱۶۵۰ - ۱۵۹۶) کے فلسفہ نے شاعری کو قتل کر دیا۔ جان لاک (۱۷۰۴ - ۱۶۳۲) نے صاف طور پر کہا کہ شاعری خوبصورت تصویروں کا مجموعہ ہے مگر وہ بنیادی طور پر گمراہ کن ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1985 All issues