Al-Risala · October 1985 · page 18

ادبی انقلاب

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۵، صفحہ ۱۸

ملٹن آخری شاعر تھا جو قدر کے نگاہ سے دیکھا گیا اور سر ٹامس براؤن (۱۶۸۲-۱۶۰۶) شاید آخری شخص تھا جس نے اس طرز کی نثر لکھی۔ ٹامس براؤن ایک تعلیم یافتہ شخص تھا۔ مگر وہ قدیم طرز کی زبان استعمال کرتا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ خواہش کے باوجود رائل سوسائٹی کا فیلو نہ بنایا جا سکا۔ اس وقت کے اہل فکر ایک ایسی نثر وجود میں لانا چاہتے تھے جو فلسفہ فطرت کے نئے میکانکی تصور سے ہم آہنگ ہو؛

They were interested in the development of prose style in accordance with new mechanical concepts of natural philo- sophy. (p.117)

نثر میں سادگی پیدا کرنے کی تحریک کا سہرا خاص طور پر جان ڈرائڈن (۱۷۰۰-۱۶۳۱) کے سر ہے اس نے مسلسل اس کی تبلیغ کی اور خود سادہ نثر استعمال کی۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ حبہ دید انگیز یزی در حقیقت ڈرائڈن کی زبان ہے۔

اٹھارویں صدی کو’’ ایج آف ریزن‘‘ کہا جاتا ہے۔ نیوٹن کے بعد محسوس کیا گیا کہ جس طرح عالم افلاک میں نظم و ضبط ہے اسی طرح لٹریچر کو بھی نظم و ضبط کا پابند ہونا چاہئے۔ ایڈمنڈ والر (۱۶۸۷۔ ۱۶۰۶) اور ڈرائڈن نے شاعرانہ زبان کے ذریعہ تاثیر پیدا کرنے کی بجائے یہ کوشش کی کہ متوازن خیالات (Well-balanced thoughts) کو معتدل اور مناسب زبان میں ادا کر کے یہ فائدہ حاصل کیا جائے۔

ایڈیسن (۱۷۱۹-۱۶۷۲) نے اپنی کتاب (The Spectator) میں انھیں خیالات کی وکالت کی۔

اس ادبی تحریک (Literary move) نے ارسطو کو دوبارہ اہمیت کا مقام دے دیا۔ پوپ نے فطرت (Nature) کی پیروی کی تلقین کی۔ ورڈسورتھ کی فطرت کی نہیں بلکہ وہ فطرت جس کو نیوٹن نے دریافت کیا تھا۔

ولیم بلیک (۱۸۲۷-۱۷۵۷) نے اس کے خلاف احتجاج کیا۔ وہ شاعر کو اسی قسم کی ایک مخلوق سمجھتا تھا جیسے قدیم اسرائیلی پیغمبر۔ اسی طرح ورڈسورتھ (۱۸۵۰-۱۷۷۰) نے بھی اس کے خلاف احتجاج کیا۔ اس نے کہا کہ حقیقت کی کچھ اور قسمیں ہیں جو ان مادی صداقتوں کے علاوہ ہیں

‹ Previous page Next page › Contents of October 1985 All issues

Printed page