الفاظ کا رجسٹر
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۵، صفحہ ۲۰
الفاظ کا رجسٹر
قدیم مدینہ میں یہود کے بعض قبیلے آباد تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نبوت کے بارہ سال بعد ہجرت کر کے مدینہ آئے تو یہود بھی آپ کی مجلسوں میں آ کر بیٹھنے لگے۔ قاعدہ ہے کہ سامعین میں سے کوئی شخص بات کو پوری طرح سمجھ نہ پائے تو وہ صاحب مجلس کو مزید متوجہ کرنے کے لیے کوئی لفظ بولتا ہے۔ یہود نے ایسے موقع پر راعنا کہنا شروع کیا۔
رَاعِنَا مراعات سے امر کا صیغہ ہے۔ اس کے لفظی معنی ہیں " ہماری رعایت کیجئے" مخاطب یہ لفظ بول کر متکلم پر یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس نے متکلم کی بات کو اچھی طرح نہیں سنایا اچھی طرح نہیں سمجھا۔ اس لیے وہ چاہتا ہے کہ متکلم اپنی بات کی دوبارہ وضاحت کرے ۔
بعض الفاظ لغت کے اعتبار سے بظاہر درست ہوتے ہیں مگر استعمال کے اعتبار سے ان میں ناپسندیدہ مفہوم پیدا ہو جاتا ہے۔ یہی معاملہ رَاعِنَا کا تھا۔ رَاعِنَا لغت کے اعتبار سے بظاہر ٹھیک معلوم ہوتا ہے۔ مگر یہود کے یہاں یہ لفظ استعمال کے اعتبار سے برے معنی کا حامل بن گیا تھا (کان هذا اللفظ سباً قبيحاً بلغة اليهود ---- قيل كان معناه يا احمق من الرعونة ، التفسير المظهري ، جلد اول ، صفحه ١١١ مدینہ کے مسلمانوں (انصار) پر سیکڑوں سال سے یہود کی دینی عظمت بیٹھی ہوئی تھی انھوں نے یہود کے عمل کو دیکھ کر سمجھا کہ شاید یہ بزرگوں اور پیغمبروں کو مخاطب کرنے کا طریقہ ہے۔ چنانچہ وہ بھی آپ کی مجلسوں میں رَاعِنَا کا لفظ استعمال کرنے لگے۔ مگر قرآن میں مسلمانوں کو اس کے استعمال سے روک دیا گیا۔ حکم ہوا کہ تم لوگ ایسے مواقع پر اُنظُرْنَا
‹ Previous page Next page › Contents of October 1985 All issues