Al-Risala · October 1985 · page 21

الفاظ کا رجسٹر

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۵، صفحہ ۲۱

(ہمارے اوپر نظر کیجیے) کا لفظ بولا کرو، اور راعنا کا لفظ بولنا چھوڑ دو (البقرہ ۱۰۴) ایک حدیث سورہ النور (آیت ۲۷) میں یہ حکم ہے کہ اے ایمان والو، جب تم اپنے گھر کے سوا دوسروں کے گھروں میں داخل ہو تو السّلام علیکم کہو اور اجازت لے کر داخل ہو۔ ابتداً جب یہ حکم اترا تو اس کے آداب لوگوں کو صحیح طور پر معلوم نہ تھے۔ چنانچہ بعض عجیب واقعات پیش آئے۔ اس سلسلے میں ایک روایت ابو داؤد میں اس طرح آئی ہے:

عن ربعی قال اتی رجل من بنی عامر حضرت ربعی کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی عامر کا ایک شخص فاستاذن علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ آیا۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے وسلم وهو فی بيته فقال ا اَلج فقال گھر میں تھے۔ اس نے آپ سے اندر آنے کی اجازت النبی صلی اللہ علیہ وسلم لخادمہ: چاہی اور کہا کہ کیا میں گھس آؤں۔ رسول اللہ اخرج الى هذا فعلمه الاستئذان صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خادم سے کہا کہ اس شخص فقل له: قل السلام علیکم اَدخل کے پاس جاؤ اور اس کو بتاؤ کہ اجازت لینے کا طریقہ فسمعه الرجل فقال السلام علیکم کیا ہے۔ اس سے کہو کہ تمہیں یوں کہنا چاہیے کہ اَدخل - فاذن له النبي صلی اللہ السلام علیکم کیا میں اندر آجاؤں۔ آدمی نے آپ علیہ وسلم فدخل کا یہ کلام سن لیا۔ اس نے دوبارہ کہا کہ السلام علیکم تفسیر ابن کثیر، جز ر ثالث ، صفحه ۲۸۰ ) کیا میں اندر آ جاؤں۔ اس کے بعد آپ نے اس کو اجازت دے دی اور وہ اندر داخل ہوا۔

عربی زبان میں وَّلِجَ يَلِجُ کے معنی بھی اصلاً وہی ہیں جو دَخَلَ يَدْخُلُ کے معنی ہیں۔ مگر استعمال کے اعتبار سے وَّلِجَ يَلِجُ کا مفہوم تقریباً وہ بن گیا ہے جس کو اردو زبان میں گھسنا کہتے ہیں۔ اس کے برعکس دَخَلَ يَدْخُلُ سادہ طور پر اندر آنے کے معنی میں بولا جاتا ہے۔

مذکورہ شخص کا بولا ہوا لفظ لغوی زبان کے اعتبار سے درست تھا۔ مگر وہ استعمالی زبان کے اعتبار سے درست نہ تھا۔ اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً اس

‹ Previous page Next page › Contents of October 1985 All issues

Printed page