تفہیم القرآن کی مثال
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۵، صفحہ ۲۷
یہودیوں کے اس ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے یہ کوئی حیرت کی بات نہیں ہے کہ انھوں نے اپنے زعم میں مسیح کو سولی پر چڑھانے کے بعد سینے پر ہاتھ مار کر کہا ہو کہ ہم نے اللہ کے رسول کو قتل کیا ہے ۔
۲- سورہ ابراہیم میں قیامت کا بیان ہے ۔ اس سلسلے میں ارشاد ہوا ہے کہ اور جب (قیامت میں) معاملہ کا فیصلہ ہو جائے گا تو شیطان کہے گا کہ بے شک اللہ نے تم سے سچا وعدہ کیا تھا اور میں نے تم سے وعدہ کیا تو میں نے اس کے خلاف کیا ۔ اور مجھے تمہارے اوپر کوئی اختیار نہ تھا۔ میں نے تم کو بلایا تو تم نے میری بات مان لی ۔ اب مجھ کو ملامت نہ کرو اپنے آپ کو ملامت کرو ۔ نہ میں تمہاری فریاد رسی کر سکتا ہوں اور نہ تم میری فریاد رسی کر سکتے ہو ۔ میں خود اس سے بیزار ہوں کہ تم اس سے قبل مجھ کو شریک ٹھیراتے تھے ۔ یقیناً ظالموں کے بے دردناک سزا ہے (ابراہیم ۲۲)
اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے صاحب تفہیم نے حسب ذیل الفاظ لکھے ہیں :
"شیطان اپنے پیروؤں سے کہے گا کہ اگر آپ حضرات ایسا کوئی ثبوت رکھتے ہوں کہ آپ خود راہِ راست پر چلنا چاہتے تھے اور میں نے زبردستی آپ کا ہاتھ پکڑ کر آپ کو غلط راستہ پر کھینچ لیا تو ضرور اسے پیش فرمائیے ۔ جو چور کی سزا سو میری ۔ ۔۔ اپنی اس دعوت کا ذمہ دار تو بلاشبہ میں خود ہوں اور اس کی سزا بھی پا رہا ہوں ۔ مگر آپ نے جو اس پر لبیک کہا اس کی ذمہ داری آپ مجھ پر کہاں ڈالنے چلے ہیں ۔ اپنے غلط انتخاب اور اپنے اختیار کے غلط استعمال کی ذمہ داری تو آپ کو خود ہی اٹھانی چاہیے ۔ "
۳۔ سورہ نحل (آیت ۲۸) میں بتایا گیا ہے کہ قیامت کے دن اہل کفر اپنے کو لیے سہارا پائیں گے تو وہ سرکشی چھوڑ کر اطاعت ظاہر کرنے لگیں گے اور کہیں گے ہم تو کوئی برائی نہیں کرتے تھے ۔ اس آیت کی تشریح تفہیم القرآن میں ان الفاظ میں کی گئی ہے : "کفار کی روحیں جب قبض کی جاتی ہیں تو وہ موت کی سرحد کے پار کا حال بالکل اپنی توقعات کے خلاف پا کر سراسیمہ ہو جاتی ہیں اور فوراً سلام ٹھونک کر ملائکہ کو یقین دلانے کی کوشش کرتی ہیں کہ ہم کوئی برا کام نہیں کر رہے تھے ۔ جواب میں ملائکہ ان کو ڈانٹ
‹ Previous page Next page › Contents of October 1985 All issues