تفہیم القرآن کی مثال
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۵، صفحہ ۲۸
بتاتے ہیں اور جہنم واصل ہونے کی پیشگی خبر دیتے ہیں ؛
۴- تفہیم القرآن میں سورہ روم کے دیباچہ میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح ایسا ہوا کہ رومیوں کے اوپر ایرانیوں نے فتح حاصل کی۔ اس کے بعد حالات بدلے اور دوبارہ رومیوں کا ایرانیوں کے اوپر غلبہ ہو گیا۔ اس سلسلے میں پڑھنے والوں کو حسب ذیل فقرہ ملتا ہے :
" اس وقت سلطنت روم پر ایران کے غلبے کا چرچا ہر زبان پر تھا۔ مکہ کے مشرکین اس پر بغلیں بجا رہے تھے اور مسلمانوں سے کہتے تھے کہ دیکھو ایران کے آتش پرست فتح پارہے ہیں اور وحی ورسالت کے ماننے والے عیسائی شکست پر شکست کھاتے چلے جارہے ہیں۔ اسی طرح ہم عرب کے بت پرست بھی تمہیں اور تمہارے دین کو مٹا کر رکھ دیں گے "، ۵- سورہ الحج (آیت ۱۱) میں منافقانہ طور پر اسلام کو اختیار کرنے والوں کا ذکر ہے۔ وہ کنارہ پر رہ کر اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔ اگر فائدہ کی امید ہو تو بیٹھے رہتے ہیں اور اگر کوئی مصیبت دیکھتے ہیں تو فوراََ واپس چلے جاتے ہیں۔ اس کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں : " یعنی دائرہ دین کے وسط میں نہیں بلکہ کنارے پر ، یا بالفاظ دیگر کفر و اسلام کی سرحد پر کھڑا ہو کر بندگی کرنا ہے۔ جیسے ایک مذبذب آدمی کسی فوج کے کنارہ پر کھڑا ہو۔ اگر فتح ہوتی دیکھے تو ساتھ آٹلے۔ اور شکست ہوتی دیکھے تو چپکے سے سٹک جائے ۔ "
۶- سورہ المومنون (آیت ۳۷) کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
" یہ لفظ یہاں محض فریاد و فغاں کے معنی میں نہیں بلکہ اس شخص کی فریاد و فغاں کے معنی میں بولا گیا ہے جو کسی رحم کا مستحق نہ ہو۔ اس میں تحقیر اور طنز کا انداز چھپا ہوا ہے۔ اس کے اندر یہ معنی پوشیدہ ہیں کہ اچھا ، اب جو اپنے کرتوتوں کا مزا چکھنے کی نوبت آئی تو بلبلانے لگے "، ۷- سورہ المومنون (آیت ۱۰۰-۹۹) کا ترجمہ ان الفاظ میں کیا گیا ہے : یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کو موت آجائے گی تو کہنا شروع کرے گا کہ اے میرے رب ، مجھے اسی دنیا میں واپس بھیج دیجئے جسے میں چھوڑ آیا ہوں۔ امید ہے کہ اب میں نیک عمل کروں گا۔ ہرگز نہیں ، یہ تو بس ایک بات ہے جو وہ بک رہا ہے "، ۸- سورہ الحج کی آیت ۳۳ قربانی کے جانوروں کے بارہ میں ہے۔ اس کی تشریح کرتے
‹ Previous page Next page › Contents of October 1985 All issues