تفہیم القرآن کی مثال
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۵، صفحہ ۲۹
ہوئے لکھتے ہیں کہ عرب کے لوگوں کا یہ خیال تھا کہ ہی کے جانوروں کو بیت اللہ کی طرف لے جانے لگیں تو ان پر سواری کرنا یا اور کسی شکل میں ان کو استعمال کرنا جائز نہیں ۔ مگر قرآن نے بتایا کہ قربانی کی جگہ پہنچنے تک تم ان جانوروں سے فائدہ اٹھا سکتے ہو۔ اس سلسلہ میں ایک حدیث ان الفاظ میں نقل کرتے ہیں :
" نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ ایک شخص اونٹ کی مہار تھامے پیدل چلا جا رہا ہے۔ اور سخت تکلیف میں ہے۔ آپ نے فرمایا اس پر سوار ہو جا۔ اس نے عرض کیا کہ یہ ہدی کا اونٹ ہے۔ آپ نے فرمایا : ارے سوار ہو جا "
۹ - سورہ المومنون کی آیت ۴۷- ۴۵ کا ترجمہ ان الفاظ میں کیا گیا ہے : پھر ہم نے موسی اور اس کے بھائی ہارون کو اپنی نشانیوں اور کھلی سند کے ساتھ فرعون اور اس کے اعیان سلطنت کی طرف بھیجا۔ مگر انھوں نے تکبر کیا اور بڑی دوں کی لی کہنے لگے کیا ہم اپنے ہی جیسے دو آدمیوں پر ایمان لائیں۔ اور آدمی بھی وہ جس کی قوم ہماری بندی ہے۔ "
۱۰- سورہ المومنون د آیت ۴۷ - ۵۳ ) میں دعوت رسالت کے منکرین کا ذکر ہے ، اس کا ترجمہ اس طرح کیا گیا ہے :
" مگر یہ لوگ اس معاملے سے بے خبر ہیں۔ اور ان کے اعمال بھی اس طریقے سے مختلف ہیں۔ وہ اپنے یہ کرتوت کیے چلے جائیں گے یہاں تک کہ جب ہم ان کے عیاشوں کو عذاب میں پکڑلیں گے تو پھر وہ ڈکرانا شروع کر دیں گے ۔ "
۱۱- تفہیم القرآن میں سورہ احزاب کے دیباچہ میں یہودی قبیلہ بنونضیر کا قصہ درج ہے اس میں ایک مقام پر یہ الفاظ لکھے ہوئے ہیں :
" جس روز انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو شہید کرنے کی سازش کی اور اس کا راز فاش ہوا اسی روز آپ نے ان کو نوٹس دے دیا کہ دس دن کے اندر مدینہ سے نکل جاؤ۔ اس کے بعد تم میں سے جو یہاں پایا جائے گا قتل کر دیا جائے گا۔ منافقین مدینہ کے سردار عبداللہ بن ابی نے ان کو ترغی دی کہ ڈٹ جاؤ اور مدینہ چھوڑنے سے انکار کر دو۔ میں دو ہزار آدمیوں کے ساتھ
‹ Previous page Next page › Contents of October 1985 All issues