تمہاری مدد کروں گا ،،
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۵، صفحہ ۳۰
تمہاری مدد کروں گا ،،
۱۲۔ سورہ حشر (آیت ۲) میں یہود کے قبیلہ بنو نضیر کے اخراج کا ذکر ہے ۔ اس آیت کے تحت مذکورہ تفسیر میں ایک مفصل حاشیہ درج ہے جس میں یہ الفاظ ہیں :
" یہودی اس دنیا میں ایک عجیب قوم ہے اللہ کے رسولوں کو یہ جانتے ہوئے اس نے قتل کیا ہے کہ وہ اللہ کے رسول ہیں ۔ اور فخر کے ساتھ سینہ ٹھوک کر اس نے کہا ہے کہ ہم نے اللہ کے رسول کو قتل کیا ،، ۱۳۔ سورہ لیل (آیت ۱۰) کے تحت ایک مفصل حاشیہ ہے جس میں حسب ذیل الفاظ ملتے ہیں :
" اور یہ جو فرمایا گیا کہ ایسے کو ہم سخت راستہ پر چلنے کی سہولت دیں گے ۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اس سے بھلائی کے راستے پر چلنے کی توفیق سلب کر لی جائے گی ۔ ۔۔ بدی کرنا اس کے لیے آسان ہوگا اور نیکی کرنے کے خیال سے اس کو یوں محسوس ہوگا کہ جیسے اس کی جان پر بن رہی ہے۔ دوسری جگہ قرآن میں ۔ ۔۔ منافقین کے متعلق فرمایا کہ وہ نماز کی طرف آتے بھی ہیں تو کسمساتے ہوئے آتے ہیں ۔ ۔۔۔ اور یہ کہ ان میں ایسے ایسے لوگ موجود ہیں جو راہِ خدا میں کچھ خرچ کرتے ہیں تو اسے اپنے اوپر زبردستی کی چٹّی سمجھتے ہیں (التوبہ ۹۸) ۱۴۔ سورہ النور (آیت ۳۱) کی تشریح کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ "عورتوں کے لیے بھی غضِ بصر کے احکام وہی ہیں جو مردوں کے لیے ہیں۔ لیکن مرد کے عورت کو دیکھنے کی بہ نسبت عورت کے مرد کو دیکھنے کے معاملہ میں احکام تھوڑے سے مختلف ہیں " اس کے بعد دورِ صحابہ کے کچھ واقعات نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں :
" شوکانی نیل الاوطار میں ابن حجر کا یہ قول نقل کرتے ہیں کہ عورتوں کے باہر نکلنے کے معاملہ میں ہمیشہ جوانہ ہی پر عمل رہا ہے۔ مسجدوں میں ، بازاروں میں اور سفروں میں عورتیں تو نقاب منہ پر ڈال کر جاتی تھیں کہ مرد ان کو نہ دیکھیں ۔ مگر مردوں کو کبھی یہ حکم نہیں دیا گیا کہ وہ بھی نقاب اوڑھیں تا کہ عورتیں ان کو نہ دیکھیں ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں کے معاملہ میں حکم مختلف ہے (جلد ۶، صفحہ ۱۰۱) تاہم یہ کسی طرح بھی جائز نہیں ہے کہ عورتیں
‹ Previous page Next page › Contents of October 1985 All issues