Al-Risala · October 1985 · page 31

تمہاری مدد کروں گا ،،

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۵، صفحہ ۳۱

اطمینان سے مردوں کو گھوریں اور ان کے حسن سے آنکھیں سینکیں "

۱۵- سورہ النور (آیت ۶۳) کا ترجمہ تفہیم القرآن میں اس طرح کیا گیا ہے : " مسلمانو ! اپنے درمیان رسول کے بلانے کو آپس میں ایک دوسرے کا بلانا نہ سمجھ بیٹھو۔ اللہ ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو تم میں ایسے ہیں کہ ایک دوسرے کی آڑ لیتے ہوئے چپکے سے سٹک جاتے ہیں۔ رسول کے حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ڈرتا چاہیے کہ وہ کسی فتنہ میں گرفتار نہ ہو جائیں یا ان پر درد ناک عذاب نہ آجائے‘‘ " ۱۶۔ سورہ النور (آیت ۶۱) میں ارشاد ہوا ہے کہ " تمہارے اوپر اس میں کوئی حرج نہیں کہ تم اپنے گھروں سے کھاؤ ۔ ۔۔۔۔۔ یا اپنے دوستوں کے گھروں سے کھاؤ " اس کی تشریح کرتے ہوئے صاحب تفہیم نے یہ الفاظ لکھے ہیں :

" ان میں سے کسی کے ہاں کھانے کے لیے اس طرح کی شرطوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے کہ صاحب خانہ باقاعدہ اجازت دے تو کھائیں ورنہ خیانت ہوگی ۔ آدمی اگر ان میں سے کسی کے ہاں جائے اور گھر کا مالک موجود نہ ہو اور اس کے بیوی بچے کھانے کو کچھ پیش کریں تو بے تکلف کھایا جا سکتا ہے ۔ ۔۔۔۔ دوستوں کے معاملہ میں یہ بات ملحوظ خاطر رہے کہ ان سے مراد بے تکلف اور جگری دوست ہیں جن کی غیر موجودگی میں اگر یار لوگ ان کا حلوا اڑا جائیں تو ناگوار گزرنا تو درکنار انھیں اس پر الٹی خوشی ہو "

۱۷- سورہ الفرقان (آیت ۷) میں ہے کہ مکہ کے منکرین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارہ میں کہتے تھے کہ " یہ کیسا رسول ہے جو کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا ہے " اس کی تشریح کرتے ہوئے صاحب تفہیم لکھتے ہیں :

" اگر آدمی ہی رسول بنایا گیا تھا تو کم از کم وہ بادشاہوں اور دنیا کے بڑے لوگوں کی طرح ایک بلند پایہ ہستی ہونا چاہیے تھا جسے دیکھنے کے لیے آنکھیں ترستیں اور جس کے حضور باریابی کا شرف بڑی کوششوں سے کسی کو نصیب ہوتا ۔ نہ یہ کہ ایک ایسا عام آدمی خداوند عالم کا پیغمبر بنا دیا جائے جو بازاروں میں جوتیاں چٹخاتا پھرتا ہو۔ "

۱۸۔ سورہ الشعراء (آیت ۲۱۷) کی تشریح کے تحت لکھتے ہیں :

‹ Previous page Next page › Contents of October 1985 All issues

Printed page