Al-Risala · October 1985 · page 37

Haroon Rasheed of Bombay

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۵، صفحہ ۳۷

مارا ۔ اس طرح کی ایک خبر انڈین ایکسپریس نے اس سرخی کے ساتھ شائع کی تھی کہ بمبئی کا ہارون رشید :

Haroon Rasheed of Bombay

مگر جلد ہی عبد الرحمن انتولے صاحب پر زوال آ گیا ۔ جہاں تک میں نے معلومات کیں ، وہ ایک لائق اور با صلاحیت آدمی ہیں ۔ ان کی خدمات کا لوگوں کو اعتراف ہے ۔ مگر ان کو غالباً اپنے اوپر ضرورت سے زیادہ اعتماد (Over-confidence) ہو گیا ۔ اور یہی چیز ان کے زوال کا سبب بن گئی ۔ اپنے آپ کو کم سمجھنا اگر مضر ہے تو اپنے آپ کو زیادہ سمجھنا ہلاکت کا باعث ہو جاتا ہے ۔

تاریخ انسانی کا یہ عجوبہ ہے کہ مسلمانوں کو جن لوگوں سے شکایت ہوتی ہے ، وہ اپنے عمل سے خود ان لوگوں کی تقویت کا ذریعہ بن جاتے ہیں ۔ مسلمانوں کو اکثریتی فرقہ کی طرف سے معاشی ظلم کی شکایت ہے ۔ مگر دوسری طرف یہی مسلمان اپنے بڑھے ہوئے اسراف کی بنا پر ان کے معاشی استحصال کا شکار ہو رہے ہیں ۔ شادیوں ، جشنوں اور تقریبات میں خرچ کیا ہوا بے حساب سرمایہ ہر روز وہ انھیں لوگوں کے جیبوں میں ڈال رہے ہیں جن کو وہ معاشی ظالم قرار دے کر ان کے خلاف چیخ پکار کر رہے ہیں ۔

بمبئی میں آپ کسی مسلمان سے گفتگو کریں تو وہ ہمیشہ شیو سینا کی شکایت کرتا ہوا ملے گا ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ خود مسلمان ہیں جو شیو سینا کی تقویت کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں ۔ مسلمان اگر شیو سینا اور اس طرح کے دوسرے فرقہ پرست گروہوں کو یکسر نظر انداز کر دیں تو یقینی ہے کہ وہ اپنی موت آپ مر جائیں گے ۔ بعض اوقات دشمن کی موت دشمن کو نظر انداز کرنے میں ہوتی ہے مگر افسوس کہ مسلمان اس راز کو نہیں جانتے ۔

بمبئی کارپوریشن کے الیکشن (اپریل ۱۹۸۵) میں شیو سینا بڑی اکثریت سے کامیاب ہوئی ہے ۔ شیو سینا کو ووٹروں کی کل تعداد کا صرف ۲۳ فی صد ملا ۔ اس کے باوجود اس کی غیر معمولی کامیابی کا کم از کم ایک سبب وہی مسلمان تھے جو شیو سینا کے سب سے زیادہ شاکی بنے ہوئے ہیں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1985 All issues

Printed page