Al-Risala · October 1985 · page 38

Haroon Rasheed of Bombay

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۵، صفحہ ۳۸

یہاں تک کے معدہ کے حلق تک آتے مسلّمہ ووٹوں کا، اکثریت سے، مثلاً عظم کھاڑی یہاں معدود ایسے حلقہ انتخاب ہیں جن میں مسلم دونوں کی اکثریت ہے۔ ملا عمر بھاری اس حلقہ میں کل تیس ہزار ووٹر ہیں جن میں تقریباً ۲۰ ہزار مسلمان ہیں۔ مگر سننے والے تعجب کریں گے کہ مسلم اکثریت کے اس علاقہ میں بھی جو شخص کامیاب ہوا وہ شیوسینا کا امیدوار تھا۔ یہ عجوبہ کیسے ہوا ۔ مسلمانوں کے باہمی اختلاف کی وجہ سے ۔ عمر کھاڑی کے حلقہ انتخاب میں پانچ مسلمان امیدوار بن کر کھڑے ہو گئے۔ دوسری طرف شیوسینا کا امیدوار صرف ایک تھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلم ووٹ پانچ جگہ بٹ گئے اور شیوسینا کو اس کے تمام ووٹ محفوظ طور پر ملے ۔ ووٹوں کی اس تقسیم کی وجہ سے پانچوں مسلم امیدوار ہار گئے اور شیوسینا کا امیدوار جیت گیا ۔ مسلمان جہاں اقلیت میں ہیں وہاں مسلم اور غیر مسلم کا مسئلہ پیدا کر کے وہ اپنے کو کم کر لیتے ہیں اور جہاں وہ اکثریت میں ہیں وہاں ٹکڑوں میں تقسیم ہو کر خود اپنے ہاتھوں اپنے کو کم کیسے ہیں جس میں اس کی روح کی تسکین کے سامان ہوتے ہیں ۔

سِری ، مُلْطَان ، پیشور ، لاہور اور گجرات کے ۱۷ مئی ۱۹۸۵ بعد نماز مغرب ۱۷ مئی صبح ۱۰ بجے نماز جمعہ سے پہلے بمبئی میں پروگرام خطاب بمقام رتن بائی ہال خواتین سے خطاب، جامعہ اصلاح البنات بائندہ کی جامع مسجد میں خطاب ہے ۴ بجے بعد نمازِ مغرب بعد نمازِ عشار ۱۸ مئی ۱۲ بجے ۴ بجے شام بعد نمازِ عشار ۱۴ مئی ۱۱ بجے مسٹر جی ایم صدیقی کے مکان پر سوال و جواب کی نشست باندرا اردو ہائی اسکول میں خطاب سوال و جواب کی نشست باندرہ اسکو ل میں پریس کانفرنس ریڈیو کلب میں اکبر پیر بھائی ہال میں خطاب گورنمنٹ کالونی باندرا میں خطاب مہاراشٹر کالج ہال میں خطاب

‹ Previous page Next page › Contents of October 1985 All issues

Printed page