Al-Risala · October 1985 · page 40

Haroon Rasheed of Bombay

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۵، صفحہ ۴۰

ادا کر دیا گیا ۔ ضروری کارروائیوں کی تکمیل کے بعد اجتماع سے ایک دن پہلے اس کا اعلان کر دیا گیا۔ جب ساری کارروائی ہو چکی تو اجتماع سے ۲۰ گھنٹے پہلے ہال کے ذمہ داروں نے مطلع کیا کہ آپ کو ہال نہیں دیا جا سکتا " کیوں کہ آپ کے مولانا صاحب جو دہلی سے آ رہے ہیں وہ دیوبندی ہیں " منتظمین اجتماع نے کہا کہ یہ بات آپ کو پہلے بتانی چاہیے تھی۔ اب تو ہم اعلان کر چکے ہیں مگر کسی قسم کی اپیل منتظمین کے لیے کارگر نہ ہوسکی ۔ بالآخر قریب کے ایک اور ہال میں اجتماع کا انتظام کیا گیا ۔ ۱۶مئی کی شام کو وہاں میری ایک گھنٹہ کی تقریر ہوئی ۔ مذکورہ انتشار کے باوجود ہال پوری طرح بھرا ہوا تھا۔ بہت سے لوگ کرسیوں پر جگہ نہ پانے کی وجہ سے کھڑے ہوئے نظر آئے تاہم میں نے اپنی تقریر میں اس ناخوش گوار واقعہ کا کوئی ذکر نہیں کیا۔

۱۹ مئی کی دوپہر کو پریس کانفرنس ہوئی۔ یہ پریس کانفرنس ریڈیو کلب میں تھی۔ ریڈیو کلب یہاں کا ایک ممتاز ادارہ ہے جو سمندر کے کنارے ایک پر فضا مقام پر واقع ہے ۔ اخبارات کے ایڈیٹروں اور نمائندوں کی قابلِ لحاظ تعداد جمع ہو گئی تھی ۔ ابتداً ان کے درمیان اسلامی مرکز کا انگریزی تعارف نامہ تقسیم کیا گیا ۔ اس کے بعد میں نے مختصر طور پر خطاب کیا جس میں مرکز کے مقاصد کی وضاحت کی ۔ آخر میں سوالات و جوابات ہوئے ۔

سوالات و جوابات کا سلسلہ بہت دیر تک قائم رہا ۔ تاہم یہ بات میرے لیے زیادہ خوشی کی نہ تھی کہ اکثر لوگ اس قسم کے سوالات پوچھتے رہے کہ مسلم پرسنل لا کے مسئلہ میں آپ کی رائے کیا ہے ۔ فرقہ وارانہ فسادات کے بارہ میں آپ کیا کہتے ہیں۔ اردو اور مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کے بارہ میں آپ کیا مرکز کیا کرنا چاہتا ہے۔

یہ سوچ کر مجھے بہت دکھ ہوا کہ اس ملک میں مسلمانوں نے اپنی جو تصویر بنائی ہے وہ بس یہ ہے کہ ان کے کچھ قومی اور مادی مسائل ہیں اور انھیں کے بارہ میں لکھنا اور بولنا سب سے بڑا مسلم مسئلہ ہے ۔ مسلم مسئلہ کا یہ تصور ہلاکت خیز حد تک غلط ہے۔ مگر اس معاملہ میں ہم دوسروں کی شکایت نہیں کرسکتے ۔ کیوں کہ مسلمانوں کی یہ تصویر خود ہمارے اپنے لیڈروں کی بنائی ہوئی ہے نہ کہ کسی دوسرے کی۔

اس ملک میں مسلمانوں کی تصویر کیسی عجیب ہو کر رہ گئی ہے ۔ میں نے سوچا کہ کاش یہاں

‹ Previous page Next page › Contents of October 1985 All issues

Printed page