Al-Risala · October 1985 · page 21

Haroon Rasheed of Bombay

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۵، صفحہ ۲۱

مجھ سے یہ سوال کیا جاتا کہ خدا کے بارے میں اسلام کا تصور کیا ہے۔ آخرت کی اتنی زیادہ اہمیت اسلام میں کیوں ہے ۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت ختم کیوں ہوگئی ۔ انسان کی نجات صرف اسلام کو اختیار کرنے میں کیوں ہے ۔

اس قسم کے سوالات کیوں نہیں کیے گئے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس قسم کے موقع پر ہمیشہ دوسروں کی طرف سے وہی سوالات پیش آتے ہیں جو عملاً ماحول کے اندر چھڑے ہوئے ہوں۔ مسلمان چونکہ یہ نہیں کرتے کہ وہ توحید اور آخرت جیسے سوالات کو عوامی سطح پر ابھاریں۔ مسلمان اس حیثیت سے لوگوں کے سامنے آتے ہیں کہ وہ ایسا گروہ ہیں جن سے کچھ چھینا گیا ہے۔ وہ اپنے آپ کو اس حیثیت سے متعارف نہیں کرتے کہ ان کے پاس کوئی ایسی چیز ہے جو دوسروں کو ان سے لینا چاہیے ۔ وہ اس ملک میں صرف مانگنے والے گروہ بنے ہوئے ہیں۔ وہ دینے والے گروہ نہ بن سکے ۔ ایسی حالت میں دوسرے بھی ان سے وہی سوال کرتے ہیں جو ایک کھوئے ہوئے گروہ سے کیا جاتا ہے۔ وہ ان سے وہ سوال نہیں کرتے جو ایسے گروہ سے کیا جاتا ہے جو کوئی چیز پائے ہوئے ہو۔

پریس کانفرنس میں ایک مسلم صحافی نے کہا کہ آپ ملت کی تعمیر کا جو طریقہ بتاتے ہیں وہ تو بہت دیر طلب ہے ۔ اتنے دیر طلب طریقہ کو کیسے اختیار کیا جا سکتا ہے۔ میں نے کہا کہ آپ جیسے لوگوں کی مشکل یہ ہے کہ آپ لوگ ہمیشہ الٹا اہرام (Inverted pyramid) بناتے ہیں ۔ آپ واقعہ کو سنسنی خیز بنانے کے لیے یہ کرتے ہیں کہ جب کوئی خبر مرتب کرتے ہیں تو اس کو الٹ دیتے ہیں ۔ یعنی جو آخری بات ہے اس کو سب سے پہلے بیان کرتے ہیں ۔ مگر الٹا اہرام صرف کاغذ کے صفحہ پر بنتا ہے ۔ زمین پر کوئی حقیقی اھرام جب بھی بنے گا اسی طرح بنے گا کہ بنیاد سے کام شروع کر کے اس کو اس کی آخری چوٹی تک پہنچانے کی کوشش کی جائے ۔

ہفتہ وار بلٹر (یکم جون ۱۹۸۵) نے بمبئی کی پریس کانفرنس پر جو نوٹ شائع کیا تھا وہ یہاں نقل کیا جاتا ہے :

"مولانا وحید الدین خاں کو بھلا کون نہیں جانتا۔ ”الرسالہ“ جیسے دینی اور علمی پرچہ

‹ Previous page Next page › Contents of October 1985 All issues

Printed page