Al-Risala · October 1985 · page 42

Haroon Rasheed of Bombay

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۵، صفحہ ۴۲

سے انھوں نے سارے ہندوستان میں دھوم مچا رکھی ہے۔ مولانا نے خاص طور سے عصرِ جدید، سائنس اور اسلام کے تعلق سے معرکہ الآرا کتابیں لکھی ہیں۔ یہ بات بالکل پکی ہے کہ اس موضوع پر اس سے بہتر کتابیں آج تک نہیں لکھی گئیں۔ اسی لیے مولانا کی کتابیں اسلامی ممالک کے کئی یونیورسٹیوں اور کالجوں کے نصاب میں شامل کرلی گئی ہیں۔ نیز ان کا ترجمہ دنیا کی کئی زبانوں میں کیا جا چکا ہے۔ مولانا وحید الدین کی اپنی ایک سوچ ہے اور اپنا ایک اندازِ فکر۔ وہ ٹکراؤ کی پالیسی پر عمل نہیں کرتے۔ لیکن مصلحت پرستی کا شکار بھی نہیں۔ وہ اپنے پڑھنے والوں کی ہمت بڑھاتے ہیں حالات سے نبرد آزما ہونے کے لیے، زندگی کے تلخ و شیریں تجربات کا سامنا کرنے کے لیے۔

گذشتہ دنوں مولانا وحید الدین نے بمبئی میں ایک پریس کانفرنس کو خطاب کیا، مولانا نے اپنے انوکھے مگر کار آمد مقصد کے حصول کے لیے ۱۹۷۰ء میں سی۔ ۲۹ نظام الدین، نئی دہلی ۱۱۰۰۱۳ میں اسلامک سنٹر کی بنیاد ڈالی تھی۔ اب مولانا کے محترم نے اپنے مقبول ترین جریدے ’’الرسالہ‘‘ کو انگریزی کا روپ بھی دے دیا ہے تاکہ ان کا مشن تیز سے تیز تر ہو سکے ۔ بمبئی کے دورانِ قیام لوگ برابر ملتے رہے اور طرح طرح کے سوالات کرتے رہے۔ کچھ لوگوں نے کلکتہ ہائی کورٹ میں قرآن کے خلاف رٹ پٹیشن کا ذکر کیا۔ میں نے کہا کہ اس پٹیشن کو ہر حال میں خارج ہونا تھا۔ چنانچہ وہ ۱۳ مئی ۱۹۸۵ء کو خارج کر دی گئی۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ مسلمانوں کی سوچ کامل طور پر منفی ہو گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کسی واقعہ کے صرف منفی پہلو کو دیکھ پاتے ہیں۔ اس کی قیمت انھیں اس شکل میں مل رہی ہے کہ وہ بہت سے فائدوں سے مستقل طور پر محروم ہو کر رہ گئے ہیں۔

اس طرح کا واقعہ ہمیشہ لوگوں میں ایک تجسس ابھارتا ہے اور ایک نئی صورت حال پیدا کرتا ہے ۔ اس صورت حال کو استعمال کر کے زبردست فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ مثلاً رٹ پٹیشن کا واقعہ ایک سنسنی خیز واقعہ تھا۔ اس سے لوگوں میں یہ سوال ابھرا کہ قرآن کی تعلیمات کیا ہیں۔ اس موقع پر اگر اچھے انداز میں اسلام کی تعلیمات پیش کی جاتیں تو لوگ بہت توجہ سے سنتے اور پڑھتے مگر ہمارے اسلامی لیڈر یہ کام نہ کر سکے۔ وہ اپنی منفی ذہنیت کی بنا پر صرف

‹ Previous page Next page › Contents of October 1985 All issues

Printed page