Haroon Rasheed of Bombay
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۵، صفحہ ۴۳
احتجاج اور شکایت کرنے میں مشغول رہے۔ صرف ایک صاحب کا مضمون سامنے آیا۔ یہ ٹائمس آف انڈیا کی بمبئی اور نئی دہلی دونوں جگہ کی اشاعتوں میں تین قسطوں (۱۴-۱۵-۱۶ مئی ۱۹۸۵) میں چھپا۔ اس کا عنوان تھا قرآن اور اس کا پیغام (The Quran And Its Message) مگر اس کے لکھنے والے کوئی عالم نہ تھے اس لیے وہ موضوع کی صحیح ترجمانی نہ کر سکے۔ ان کے مضمون میں قرآن کی تعلیمات کو اس انداز میں پیش کیا گیا تھا گویا کہ قرآن وحدت ادیان کا حامی ہے۔ یہ ایک بہترین موقع تھا کہ انگریزی، ہندی، بنگالی، تامل، تلگو، ملیالم، ہر زبان کے عوامی اخباروں میں اعلیٰ درجہ کے تعارفی مضامین شائع کیے جاتے۔ مگر تمام مسلمان احتجاج میں مبتلا رہے اور یہ ضروری کام انجام نہ پاسکا۔
۱۹ مئی ۱۹۸۵ کی سہ پہر کو نہر و پلانیٹریم دیکھا۔ نہرو پلانیٹریم جب بنا تھا تو اس کے بارہ میں الرساله (فروری ۷۸، ۱۹) میں ایک مضمون شائع کیا گیا تھا۔ اب اس کو دیکھنے کا بھی اتفاق ہوا۔ بمبئی کے ایک صاحب جو ہمارے قافلہ کے ساتھ تھے، انھوں نے کہا کہ آج میں پہلی بار اس کو دیکھ رہا ہوں۔ انھوں نے کہا کہ میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ بمبئی کے پڑھے لکھے مسلمانوں میں شاید ۵ فی صد بھی نہ ہوں گے جنہوں نے اس پلانٹیرئیم کو دیکھا ہو۔ مسلمان یا تو حاجی علی کی درگاہ جاتے ہیں یا چوپاٹی جیسے تفریحی مقامات پر۔
پلانٹیرئیم میں وسیع کائنات کا مشاہدہ کرایا جاتا ہے۔ شمسی نظام اور ستاروں اور کہکشاؤں کی گردش کے مناظر دکھائے جاتے ہیں، یہ ایک عجیب حیران کن تجربہ ہوتا ہے۔ میں نے اس کو دیکھا تو وسیع کائنات میں بے شمار انتہائی بڑے بڑے اجسام کی گردش کے منظر نے دل کی عجیب کیفیت کر دی۔ مجھے ایسا محسوس ہوا گویا کہ میں خدا کی ایک نئی صفت کو دریافت کر رہا ہوں یہ صفت میری اپنی زبان میں خود اعتمادی (Self-confidence) تھی۔ میں نے سوچا کہ اتنے وسیع خلاء میں اتنے بے شمار اجسام کو پیدا کر کے ان کو متحرک کرنا ایک بہت بڑا خطرہ مول لینا ہے۔ کیوں کہ ہر آن یہ اندیشہ ہے کہ یہ اجسام آپس میں ٹکرا کر تباہ ہو جائیں۔ ایسے حال میں کائنات کو پیدا کرنے کے لیے بے پناہ خود اعتمادی درکار تھی۔ کیسا عجیب طاقتوں والا ہے وہ خدا جس نے اس عظیم کائنات کو پیدا کیا اور ان کو خلائی وسعتوں میں اس طرح متحرک کر دیا کہ ارب ہا ارب
‹ Previous page Next page › Contents of October 1985 All issues