تکرار نہیں
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۵، صفحہ ۱۴
تکرار نہیں
مسٹر جو گندر سنگھ ایم اے پیدائش (۱۹۲۴) نے ۹ جولائی ۱۹۸۵ کی ملاقات میں اپنا ایک واقعہ بیان کیا۔ وہ ۱۹۵۶ میں پروفیسر ایس۔ پی۔ کنال کے طالب علم تھے۔ موصوف کا خاص مضمون یونانی فلسفہ تھا۔ وہ ۳۰۰۰ سال تک یہی مضمون پڑھاتے رہے اور دہلی یونیورسٹی سے ریڈر ہو کر ریٹائر ہوئے۔
مسٹر جو گندر سنگھ نے بتایا کہ پروفیسر ایس۔ پی۔ کنال کی ملازمت کے آخری دنوں میں ایک بار وہ ان سے ملے۔ جب وہ پروفیسر موصوف کے گھر پہنچے تو انھوں نے دیکھا کہ وہ یونانی فلسفہ پر ایک کتاب پڑھ رہے ہیں۔
مسٹر جو گندر سنگھ کو یہ دیکھ کر تعجب ہوا۔ انھوں نے اپنے استاد سے کہا، آپ نے تو یونانی فلسفہ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ پھر اسی مضمون کو آپ ۳۰ سال سے برابر پڑھارہے ہیں۔ اب تو آپ کو وہ سب یاد ہو گیا ہوگا۔ پھر آپ اب بھی کیوں اسی مضمون کو پڑھ رہے ہیں۔ پروفیسر موصوف نے جواب دیا !
Every successive reading gives me a new thought. ہر اگلا مطالعہ مجھ کو نیا فکر دیتا ہے ۔
اگر آدمی کا شعور بیدار ہو، اگر اس کے ذہن میں جاگ پیدا ہو چکی ہو تو اس کا مطالعہ صرف انھیں محدود الفاظ کا مطالعہ نہیں ہوتا جن کو اس نے کاغذ کے صفحہ پر پڑھا ہے۔ پڑھنے کے دوران اس کا اپنا ذہن مزید غیر مکتوب پہلوؤں کی طرف منتقل ہوتا ہے ۔ وہ جتنا پڑھتا ہے اس سے زیادہ وہ اپنے لیے حاصل کر لیتا ہے ۔ اس طرح اس کا مطالعہ مسلسل اس کے علم کو بڑھاتا رہتا ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ "تکرار " کی شکایت صرف وہ لوگ کرتے ہیں جن کے پاس اپنی طرف سے شامل کرنے کے لیے کچھ نہ ہو۔ جن کے پاس اپنی طرف سے شامل کرنے کے لیے ہو وہ ایک ہی چیز کو بار بار پڑھ کر بھی نہیں اکتاتے۔ کیوں کہ ہر بار مطالعہ سے وہ نئی چیز حاصل کر لیتے ہیں ۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1985 All issues