الٹی خوراک
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۵، صفحہ ۱۵
الٹی خوراک
موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کو دوبارہ اٹھانے کے لئے س عالم اسلام میں کوششیں کی گئی ہیں۔ یہ کوششیں ماضی کی تمام احیائی کوششوں کی مجموعی مقدار ارے سے بھی زیادہ ہیں۔ اس کے باوجود نتیجہ بالکل صفر ہے۔ شاندار کوششوں کے بے شان انجام کی یہ ایسی مثال ہے جس کی کوئی دوسری نظیر ساری انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔
اس عظیم ناکامی کی وجہ اگر ایک لفظ میں بیان کرنا ہو تو وہ ہوگی " الٹی خوراک " یعنی مسلمانوں کو دوبارہ متحرک کرنے کے لئے ان کے اندر جو مزاج بنا نا تھا، اس کے برعکس دوسرا مزاج ان کے اندر بنایا گیا۔ چنانچہ مصلحین کی تمام کوششیں اور قربانیاں اصل مقصد کے اعتبار سے رائیگاں ہو کر رہ گئیں۔
موجودہ زمانہ کے مصلحین نے ملت کی اصلاح کے لئے جو طریقے اختیار کئے وہ ظاہری طور پر اگرچہ ایک دوسرے سے مختلف تھے مگر ان سب کا خلاصہ صرف ایک تھا۔ انھوں نے ملت کے احساس فخر کو ابھارا۔
ہمارے مصلحین نے ماضی کی عظمت کو یاد دلا کر حال میں دوبارہ عظیم بننے کا پیغام دیا۔ ہمارا دین سب سے زیادہ کامل ہے، ہمارا رسول سب سے زیادہ افضل ہے، ہماری تاریخ سب سے زیادہ شاندار ہے۔ ہماری شریعت سب سے زیادہ اعلیٰ ہے، ہمارے اکابر سب سے زیادہ با کمال ہیں۔ ہماری امت تمام امتوں میں خیر الام ہے۔ یہی وہ فکری غذا ہے جو موجودہ زمانہ کے تمام مصلحین نے ایک انداز سے یا دوسرے انداز سے دی ہے۔ اس میں غالباً کسی مصلح کا کوئی استثناء نہیں۔
اس قسم کی باتوں کا نتیجہ موجودہ حالات میں صرف ایک ہی ہو سکتا تھا اور وہی ہوا۔ اور وہ ہے جھوٹا احساسِ فخر۔ ایک زوال یافتہ قوم کے لئے جھوٹے فخر کی غذا ہمیشہ سب سے زیادہ مرغوب غذا ہوتی ہے۔ چنانچہ قوم کی قوم ان رہنماؤں کے پیچھے دوڑ پڑی۔ مگر قوم کی موجودہ حالت میں یہ خوراک اس کے لئے الٹی خوراک ثابت ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ ایک طرف ہمارے شاعروں اور خطیبوں کے
‹ Previous page Next page › Contents of November 1985 All issues