الٹی خوراک
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۵، صفحہ ۱۶
الفاظ سے زمین و آسمان بھر رہے ہیں، دوسری طرف قوم جہاں تھی وہیں بدستور پڑی ہوئی ہے۔ وہ ایک قدم آگے نہ بڑھ سکی۔
حقیقت واقعہ تو یہ تھا کہ قوم زندگی کے دوڑ میں پچھڑ گئی تھی۔ وہ ہر میدان میں دوسری قوموں سے پیچھے ہو گئی تھی۔ ایسی حالت میں اصل ضرورت یہ تھی کہ کھونے کا احساس دلا کر اس کے اندر پانے کا جذبہ بیدار کیا جائے۔ اس کے برعکس مذکورہ قسم کی باتوں نے یہ کیا کہ جن چیزوں کو ہم نے واقعہ میں کھو دیا تھا ان سے وراثتی رشتہ جوڑ کر ان کو اپنے خانہ میں لکھ لیا۔ جو چیز واقعاتی اعتبار سے اپنی نہ تھی اس کو درایتی اعتبار سے اپنی بنا لیا۔ یہی وہ چیز ہے جس کو کسی نے "پدرم سلطان بود" کے لفظ سے تعبیر کیا ہے۔ اور حقائق کی اس دنیا میں پدرم سلطان بود سے زیادہ بری نفسیات اور کوئی نہیں ۔
انسان کا اصل سرمایہ عجز ہے نہ کہ بڑائی۔ فخر اور بڑائی کی نفسیات پیدا کر نا گو یا انسان کو خدا والی خوراک دینا ہے۔ خدائی غذا پر انسان کی تعمیر کرنا ہے۔ اس قسم کی الٹی خوراک صرف ایسے انسان پیدا کر سکتی تھی جو جھوٹے جنون عظمت (Paranoia) میں مبتلا ہوں ۔ اور جھوٹا جنون عظمت ذلت اور بربادی کے سوا اور کہیں آدمی کو نہیں پہنچاتا۔
موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی اصل بیماری، ایک لفظ میں، جھوٹا فخر ہے۔ یہ عین وہی بیماری ہے جو بعد کے زمانہ میں یہود کے اندر پیدا ہوئی ۔ اور اب وہ مسلمانوں میں پوری شدت کے ساتھ پیدا ہو چکی ہے۔
فخر کی نفسیات دینی لحاظ سے بھی غلط ہے اور دنیاوی لحاظ سے بھی۔ دینی لحاظ سے اس کی غلطی یہ ہے کہ خدائے ذوالجلال پر ایمان آدمی کے اندر تواضع کا مزاج پیدا کرتا ہے اور فخر کا مزاج عین اس کا ضد ہے۔
دنیا کے لحاظ سے اس کی غلطی یہ ہے کہ یہ دنیا اسباب کی دنیا ہے۔ یہاں ہر آدمی کو اس کے عمل کے بقد رحصہ ملتا ہے۔ مگر فخر کی نفسیات عمل اور جد وجہد کی قاتل ہے۔ ایسا آدمی کبھی عمل کے تقاضے پورے نہیں کرتا اور جب قانون قدرت کے مطابق ناکام ہوتا ہے تو دوسروں کی شکایت کرتا ہے۔ وہ پانے سے بھی محروم رہتا ہے اور جاننے سے بھی۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1985 All issues