Al-Risala · November 1985 · page 17

آَدَم و ابلیس کا قصّہ

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۵، صفحہ ۱۷

آَدَم و ابلیس کا قصّہ

اسلام میں زندگی کا جو تصور دیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ اس دنیا میں انسان کو امتحان کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ ہر آدمی جو اس دنیا میں آتا ہے وہ اس لیے آتا ہے کہ وہ یہاں لوگوں کے درمیان رہ کر امتحان دے اور پھر اپنے عمل کے مطابق اپنا انجام پانے کے لیے دوبارہ خدا کے یہاں چلا جائے ۔ آدمی کا امتحان کس چیز میں ہے، اس کو آدم اور ابلیس کے قصّہ میں بتایا گیا ہے۔ جب اللہ تعالی نے پہلے انسان (آدم) کو پیدا کیا تو فرشتوں سے اور ابلیس سے کہا کہ اس کے آگے جھک جاؤ۔ فرشتے فوراً خدا کے حکم کے مطابق آدم کے سامنے جھک گئے۔ مگر ابلیس جھکنے کے لیے تیار نہ ہوا۔ اس نے کہا کہ تو نے آدم کو مٹی سے بنایا ہے اور مجھ کو آگ سے بنایا ہے ۔ اس لیے میں آدم سے بہتر ہوں۔ میں آدم کے آگے نہیں جھکوں گا۔

اس وقت خدا نے آدم اور ابلیس دونوں کو زمین پر بھیج دیا۔ ابلیس نے کہا کہ میں آدم کی تمام نسل کو بہکاؤں گا۔ خدا نے کہا کہ : آدم کی اولاد میں جو لوگ تیری راہ چلیں گے تو میں تجھ کو اور ان کو سب کو دوزخ میں ڈالوں گا ( فمن تبعك منهم لأملئن جهنم منك ومن الناس اجمعين)

اب دیکھئے کہ ابلیس کی وہ راہ کیا تھی جس پر وہ چلا۔ وہ یہ تھی کہ اس کے اندر آدم کے مقابلہ میں بڑائی کی نفسیات آگئی ( انا خير منه)، اس نے سمجھا کہ میں آدم سے بہتر ہوں اس لیے میں آدم کے مقابلہ میں نہیں جھکوں گا۔ میں آدم کا احترام نہیں کروں گا۔

دنیا میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص کا معاملہ دوسرے شخص سے پڑتا ہے ۔ اب اگر آپ ایسا کریں کہ سامنے کا آدمی جب آپ کو اونچا اور طاقت ور دکھائی دے تو آپ اس کا لحاظ کریں اور اس کا حق اسے دیں۔ اور جب سامنے کا آدمی نیچا اور کمزور نظر آئے تو اس کو نظر انداز کریں اور اس کا حق ادا کرنے سے انکار کر دیں۔ اگر آپ ایسا کریں تو یہ شیطانی طریقہ کی پیروی کرنا ہوگا۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ دوسروں کے ساتھ آپ کا سلوک معلوم اصولوں کا پابند ہو۔ آپ ہر حال میں انھیں اعلیٰ اصولوں کی پابندی کریں، خواہ دوسرا فریق اونچا دکھائی دیتا ہو یا نیچا ۔ خواہ وہ کمزور ہو یا طاقت ور۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1985 All issues

Printed page